SHAWORDS
Mohsin Kashmiri

Mohsin Kashmiri

Mohsin Kashmiri

Mohsin Kashmiri

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

girtaa hi jaa rahaa hai kyon me'yaar din-ba-din

گرتا ہی جا رہا ہے کیوں معیار دن بہ دن ہم پر ہی چل رہی ہے کیوں تلوار دن بہ دن تیری بدل رہی ہے جو گفتار دن بہ دن دیتا ہے بے سبب ہمیں آزار دن بہ دن آنکھوں سے اشک بن کے برستی ہے تیری یاد یوں زخم ہو رہے ہیں نمودار دن بہ دن پہلی سی بات تجھ میں بھی موجود اب کہاں تیور بدل رہے ہیں ترے یار دن بہ دن ہے آخری کلام مرا سن تو لیجیے جینا ترے بنا ہوا دشوار دن بہ دن سچ بات ہے کہ اب حیا باقی نہیں رہی محسنؔ بدل رہے ہیں اب اطوار دن بہ دن

غزل · Ghazal

tiir khaa kar bhi mohabbat ki sadaa chalti hai

تیر کھا کر بھی محبت کی صدا چلتی ہے میرے قاتل تری تلوار جدا چلتی ہے جس کو دیکھو وہ تعاقب میں لگا رہتا ہے میں جو جھکتا ہوں تو نفرت کی ہوا چلتی ہے یوں تو بے باک ہو کے چلتا ہے وہ اپنوں میں دل میں کیوں غیروں کے سازش کی ہوا چلتی ہے بیچ دریا میں کہیں وہ نہ ڈبو دے ہم کو ساتھ دریا کے کوئی موج بلا چلتی ہے میری یادوں میں ترا عکس چمکتا ہی رہے اب تو ہونٹوں پے یہی ایک دعا چلتی ہے میرے محسنؔ ترا احسان سدا مجھ پے رہے آج اترا کے ہی کیوں باد صبا چلتی ہے

غزل · Ghazal

baad muddat hi sahi din ye suhaane aae

بعد مدت ہی سہی دن یہ سہانے آئے آج کی شب وہ مجھے جام پلانے آئے پی کے مدہوش بنا بیٹھا تری یادوں میں سوئے خوابوں کو مرے پھر سے جگانے آئے دیکھو ان چلتے ہوئے وقت کے طوفانوں کو خوف فرقت کا ہمیں یار دکھانے آئے ہم ہیں غدار تو پابند وفا تم ہو کیا پھر بھی ہم رسم وفا تم سے نبھانے آئے اک تری یاد ہے برسات ہے تنہائی ہے کاش ہم سے ہی تو ملنے کے بہانے آئے

غزل · Ghazal

sar-e-baazaar ham ne bhi tamaashaa kyaa nahin dekhaa

سر بازار ہم نے بھی تماشا کیا نہیں دیکھا بھرے سنسار میں ہم نے کوئی تم سا نہیں دیکھا نہ چھیڑو بات الفت کی محبت اور چاہت کی فریب حسن میں ہم نے ستم کیا کیا نہیں دیکھا یہاں ہر روز ہوتی ہے قیامت ہر گھڑی برپا کسی بستی کو ایسے خون میں ڈوبا نہیں دیکھا جہاں دیکھوں وہاں بس ایک ہی آتش زبانی ہے برستے پھول ہوں جن سے کوئی ایسا نہیں دیکھا نصیحت راس کوئی بھی تجھے آتی نہیں محسنؔ زمانے بھر میں پتھر دل کوئی تجھ سا نہیں دیکھا

غزل · Ghazal

puraane zakhm ko dil se miTaayaa bhi nahin jaataa

پرانے زخم کو دل سے مٹایا بھی نہیں جاتا تری چاہت کو اوروں سے چھپایا بھی نہیں جاتا تمیز خار و گل سے میں ہوا واقف نہیں اب تک کہاں روشن ضمیری ہے دکھایا بھی نہیں جاتا لگی اک آگ ہے ہر سو اذیت اور نفرت کی سلگتی آگ کو مجھ سے بجھایا بھی نہیں جاتا کہاں کرتا مسلماں ہے کسی کی اب نگہبانی نفس کے ہاتھ لٹنے سے بچایا بھی نہیں جاتا نہیں مقصود ہے محسنؔ جہاں میں دل لگانا یوں جہاں میں اس حقیقت کو بتایا بھی نہیں جاتا

Similar Poets