SHAWORDS
Mohsin Sahil

Mohsin Sahil

Mohsin Sahil

Mohsin Sahil

poet
20Ghazal

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

ہر طرف اک بے بسی سی ان دنوں منظر میں ہے گردش دوراں تھمی ہے اور انساں گھر میں ہے دیکھنا اس کا شفا ہے اس کا چھونا زندگی بات یہ کیسی انوکھی میرے چارہ گر میں ہے موسموں کی رت نئی ہے تم جو ٹھہرے ہو یہاں یعنی دھڑکن سی ہر اک کنکر میں اور پتھر میں ہے نامۂ اعمال میں گفتار سے بڑھ کر بھی کچھ پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے جس کو پی کر پھر کسی بھی جام کی خواہش نہ ہو بندگی کا وہ نشہ اقبال کے ساغر میں ہے ساحلؔ دریا پہ چھلکا تھا جو تیری یاد میں میرے اس آنسو کی تابانی ہر اک گوہر میں ہے

har taraf ik bebasi si in dinon manzar mein hai

1 views

غزل · Ghazal

اس نے ہم سے یہی شکایت کی اس قدر ہم سے کیوں محبت کی عاشقوں کی نماز ہونے لگی اور میاں قیس نے امامت کی لائے تشریف میرے خوابوں میں خواہ مخواہ آپ نے یہ زحمت کی وہ تھے تزئین حسن میں مصروف ہم نے ملنے میں تھوڑی عجلت کی اس نے دیکھا مگر نہ پہچانا خیر جو بھی کیا عنایت کی پھر سکوں دل کا ہو گیا برباد تیری یادوں نے کیا قیامت کی رشتے اکثر ہیں جھوٹ پر قائم کوئی قیمت نہیں صداقت کی عشق کے نام پر ہوئے برباد پر نہ محبوب سے شکایت کی چند آنسو ہیں اس کی یادیں ہیں بات کچھ پوچھیے نہ خلوت کی

us ne ham se yahi shikaayat ki

غزل · Ghazal

کبھی جو مضطرب یہ دل رہا ہے تو پھر جینا بہت مشکل رہا ہے اسی کو منصفی سونپی گئی ہے ذرا پہلے جو اک قاتل رہا ہے وضاحت میں ہوئے تم صرف جس کی وہ موضوع ہم پہ کب مشکل رہا ہے ہماری کشتیاں ٹوٹی بہت ہیں مگر تقدیر میں ساحلؔ رہا ہے

kabhi jo muztarib ye dil rahaa hai

غزل · Ghazal

اک دو اپنے یار ہوئے باقی سب اغیار ہوئے اب تو زمانہ بیت گیا محلوں کو بازار ہوئے لفظوں کے کچھ تیر چلے اور لہجے تلوار ہوئے کتنے ساون بیت گئے گوری کا دیدار ہوئے پانی سے تھا خوف جنہیں کیسے دریا پار ہوئے

ik do apne yaar hue

غزل · Ghazal

کیا کہا عاشقی سے کیا حاصل تو بتا زندگی سے کیا حاصل خدمت خلق بھی ضروری ہے ورنہ اس بندگی سے کیا حاصل راستے ہی نہ جائیں منزل کو پھر تری رہبری سے کیا حاصل کتنی صدیوں سے سہہ رہے ہیں غم دو گھڑی کی خوشی سے کیا حاصل صرف دل کا غبار ہے ساحلؔ ورنہ اس شاعری سے کیا حاصل

kyaa kahaa aashiqi se kyaa haasil

غزل · Ghazal

لوگ جو گردش ایام سے ڈر جاتے ہیں موت سے پہلے ہی سمجھو کہ وہ مر جاتے ہیں یہ جو کچھ لوگ کہ طوفاں سے ڈراتے ہیں ہمیں سرسراہٹ سے یہ پتوں کی بھی ڈر جاتے ہیں جس کو دیکھو وہ حراساں ہے یہاں اپنوں سے شکر ہے شام کو سب اپنے ہی گھر جاتے ہیں اب کے کرنا ہے ہمیں ترک تعلق میں پہل ہم یہ کہتے ہیں فقط آپ تو کر جاتے ہیں اک ترا غم تھا جسے ہم نے سنبھالا ہر دم ورنہ طوفان سے تنکے تو بکھر جاتے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ سورج کو کریں گے تسخیر جو یہاں شام کے جگنوں سے بھی ڈر جاتے ہیں

log jo gardish-e-ayyaam se Dar jaate hain

Similar Poets