SHAWORDS
Moin Alvi Khairabadi

Moin Alvi Khairabadi

Moin Alvi Khairabadi

Moin Alvi Khairabadi

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کسی کی بھی جانب نہ ہم دیکھتے ہیں بس ان کی نگاہ کرم دیکھتے ہیں کہ حسن مجسم کی رعنائیوں کو یوں حیرت سے اہل ارم دیکھتے ہیں جبیں سجدہ کرتی ہے پیہم ہماری جہاں تیرے نقش قدم دیکھتے ہیں رہ عشق میں لوگ آنے سے پہلے شکستہ دلوں کے الم دیکھتے ہیں عجب رنجشیں ہیں کہ یہ کیفیت ہے نہ وہ دیکھتے ہیں نہ ہم دیکھتے ہیں

kisi ki bhi jaanib na ham dekhte hain

غزل · Ghazal

پھر سے کتاب عشق کی تفسیر دیکھیے یا پھر ہمارے پاؤں کی زنجیر دیکھیے اک شخص محو خواب نظر آیا خواب میں اب آپ میرے خواب کی تعبیر دیکھیے آہ و فغاں کی کوئی صدائیں نہیں رہیں یہ بھی ہمارے درد کی تاثیر دیکھیے اکتا نہ جائیں آپ کہیں انتظار سے کیوں ان کو آنے میں ہوئی تاخیر دیکھیے

phir se kitaab-e-'ishq ki tafsir dekhiye

غزل · Ghazal

کیسے کہیں کہ ہم بھی بھلا خیریت سے ہیں جب تم خفا ہو ہم سے تو کیا خیریت سے ہیں فصل بہار جھوم کے آئی تو ہے مگر گلشن میں پھول باد صبا خیریت سے ہیں خون وفا وہ کر نہ سکیں گے کسی جگہ جب تک لگی رہے گی حنا خیریت سے ہیں دنیا کے لاکھ ظلم ہوں مجھ کو ہے یہ یقین جب تک ہے سر پہ ماں کی دعا خیریت سے ہیں دیدار ہو نہ ہو مجھے اب غم نہیں معینؔ ہم بے وفا سے کر کے وفا خیریت سے ہیں

kaise kahein ki ham bhi bhalaa khairiyat se hain

غزل · Ghazal

آنسوؤں نے کام کر کے رکھ دیا عشق نے بدنام کر کے رکھ دیا اک تجلی نے تری ایسا کیا حسن کو بے دام کر کے رکھ دیا عشق کے آغاز میں تم ہو ابھی ہم نے تو انجام کر کے رکھ دیا میرے ساقی کی عنایت نے مجھے اک شکستہ جام کر کے رکھ دیا جب سے گزرے ہم جنون عشق سے راستہ یہ عام کر کے رکھ دیا کتنی نیندیں ٹوٹی ہیں دیکھو معینؔ آہ نے کہرام کر کے رکھ دیا

aansuon ne kaam kar ke rakh diyaa

غزل · Ghazal

تو مرے دل کی آرزو ہو جا آئنہ بن کے روبرو ہو جا پھر سے گلشن میں شادمانی ہو سرخ پھولوں کی گفتگو ہو جا مے کشی میکدے پہ چھانے تک جام ہو جا یا پھر سبو ہو جا اہل گلشن پہ یہ عنایت کر بوئے گل بن کے کو بہ کو ہو جا سن یہ احسان مجھ پہ اتنا کر میری غزلوں کی آبرو ہو جا ہم فقیروں کی عید ہو جائے بے حجابانہ ماہ رو ہو جا آرزو اتنی ہے معین علویؔ جس طرف دیکھیں تو ہی تو ہو جا

tu mire dil ki aarzu ho jaa

غزل · Ghazal

جس کو دیکھا تھا کبھی حسن کے پیکر کی طرح اب خیالوں میں وہی شخص ہے منظر کی طرح راہ مقتل سے ذرا خود کو بچا کر نکلو چشم قاتل کی غضب ناکی ہے خنجر کی طرح اس کی مخمور نگاہوں میں عجب جادو تھا وہ سراپا تھا فقط چاند کے پیکر کی طرح میرے ہاتھوں کی لکیروں میں ترا نام نہیں پھر بھی ڈھونڈا ہے تجھے میل کے پتھر کی طرح بے حسی ایسی کہ احساس سے خالی ہیں سبھی دل ہوئے جاتے ہیں اس دور میں پتھر کی طرح وصل کی کوئی تمنا ہے نہ فرقت کا عذاب زندگی ہم نے گزاری ہے قلندر کی طرح تہہ میں دریا کی مجھے کچھ بھی نہ مل پایا معینؔ غوطے ہم نے بھی لگائے تھے شناور کی طرح

jis ko dekhaa thaa kabhi husn ke paikar ki tarah

Similar Poets