
Moin Fayyazi
Moin Fayyazi
Moin Fayyazi
Ghazalغزل
زندگی ہے کہ کوئی صحرا ہے روشنی کا نگر اندھیرا ہے چلتے رہتا ہوں جانے کس جانب کوئی منزل نہ کچھ بسیرا ہے دل کی گہرائیوں میں آ جاؤ زخم دل میرا اور گہرا ہے تم جو چلتے ہوئے ٹھہرتے ہو وقت بھی آج ٹھہرا ٹھہرا ہے غم کی تحریر تم کو کیا معلوم کاغذ دل تمہارا کورا ہے پیار ہے مجھ کو اس ستم گر سے جس کا انداز پیارا پیارا ہے میری دنیا سنور گئی ہے معینؔ ان کی زلفوں کو جو سنوارا ہے
zindagi hai ki koi sahraa hai
1 views
غم بخشنے والوں سے خوشی مانگ رہا ہوں روتی ہوئی آنکھوں کی ہنسی مانگ رہا ہوں کچھ لوگ فقط دل کا سکوں مانگ رہے ہیں دل دار سے میں دل کی لگی مانگ رہا ہوں یہ کیسی صدی ہے کہ سدا ظلم ہے رقصاں میں اپنے تصور کی صدی مانگ رہا ہوں کیوں میرے لئے خار بہ داماں ہے زمانہ کیا یہ بھی خطا ہے کہ کلی مانگ رہا ہوں
gham bakhshne vaalon se khushi maang rahaa huun
محفل میں تھی دلوں میں کوئی روشنی نہ تھی کہنے کو زندگی تھی مگر زندگی نہ تھی امید و آس کی تو کوئی روشنی نہ تھی پھر بھی مری خوشی میں کہیں کچھ کمی نہ تھی یوں دیکھیے چمن میں گلوں کی کمی نہ تھی یوں سوچئے تو رنگ نہ تھا تازگی نہ تھی تیری یہ بے رخی تو فقط بے رخی نہ تھی دل کا سوال تھا یہ کوئی دل لگی نہ تھی ان کے مزاج میں کبھی اتنی کجی نہ تھی انجان تھے وہ ہم سے مگر بے رخی نہ تھی مانوس تھی نظر ترے انداز دید سے دزدیدہ تھی نگاہ مگر اجنبی نہ تھی
mahfil mein thi dilon mein koi raushni na thi
یا الٰہی یہ آرزو نکلے دم مرا ان کے روبرو نکلے ڈھونڈنے جن کو کو بکو نکلے وہ مرے گھر کے روبرو نکلے داد اے حسن انتخاب نظر وہ تصور سے خوب رو نکلے آپ کا نقش پا رہا رہبر جب بھی ہم بہر جستجو نکلے اشک بہتا ہے تیری یادوں میں بات ہے آنکھ سے لہو نکلے شاعری اور کیا معینؔ کی ہے آپ کی جیسے گفتگو نکلے
yaa-ilaahi ye aarzu nikle
ہجر کی رات اور کیا کرتے تیرے آنے کی بس دعا کرتے ہم سے توہین عشق ہو نہ سکی کس طرح عرض مدعا کرتے انگلیاں ہو گئیں فگار اپنی کتنے مکتوب ہم لکھا کرتے دار پہ ہم کو کھینچنے والو ہم بہر حال حق کہا کرتے جب کہ ماحول ہی برا ہے معینؔ کیا کسی سے کوئی گلہ کرتے
hijr ki raat aur kyaa karte





