Moin Tabish
کار افزائش انوار سحر کس نے کیا صرف آفاق مرا رخت سفر کس نے کیا بے ہنر تجھ سے مرا عجز ہنر پوچھتا ہے مجھ کو معتوب سر شہر ہنر کس نے کیا دہر فانی میں فقط اہل قناعت کے سوا زندگی تجھ کو بہرحال بسر کس نے کیا اے مرے جذب انا تیری بقا کی خاطر اپنی تکمیل سے اس طور حذر کس نے کیا تو کہ اک ذرۂ ناچیز تھا اے حسن مآب تجھ کو ہم پایۂ خورشید و قمر کس نے کیا آج بھی دنگ ہے رفتار زمانہ اس پر ایک پل میں کئی قرنوں کا سفر کس نے کیا سوچتا ہوں فقط اس دور کے انساں کے لیے حسرت و یاس کے موسم کو امر کس نے کیا محو حیرت ہے تحیر بھی جہاں پر تابشؔ ایسے بے آب و گیہ دشت کو گھر کس نے کیا
kaar-e-afzaaish-e-anvaar-e-sahar kis ne kiyaa