SHAWORDS
M

Momi Khan

Momi Khan

Momi Khan

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

روح خوابیدہ تجھے پھر سے جگایا جائے حشر سے پہلے اگر حشر اٹھایا جائے ہو عطا پہلے مجھے صورت ابجد ہونا پھر یہ تجسیم کا احساس جگایا جائے پیرہن گل رتوں کے جب بھی سنوارے جائیں ایک پل فصل دریدہ کو دکھایا جائے ایک تو ہی مری خوشیوں میں رہا ہے شامل آ ذرا درد میں بھی حصہ بٹایا جائے چھوڑ دے فکر زمانے کی گھڑی بھر مومیؔ اپنے اللہ پہ توکل کو بڑھایا جائے

ruh-e-khvaabida tujhe phir se jagaayaa jaae

غزل · Ghazal

رشک مہتاب ہتھیلی پہ مری آ گرا خواب ہتھیلی پہ مری آج ڈھل جاؤ مری آنکھوں سے اشک برفاب ہتھیلی پہ مری لکھ دئے رب نے لکیروں جیسے غم کے اسباب ہتھیلی پہ مری کیا خبر تم کو کہ رہتے ہیں یہاں چھالے بیتاب ہتھیلی پہ مری او مری نیند چرانے والے رکھ دے کم خواب ہتھیلی پہ مری کائی سی جم گئی ہے پلکوں پر ٹھہرا ہے آب ہتھیلی پہ مری میں نے بولا تھا فقط مومیؔ سے تم ہو نایاب ہتھیلی پہ مری

rashk-e-mahtaab hatheli pe miri

غزل · Ghazal

جب بھی آفت ناگہانی دیکھیے خونی رشتوں کی گرانی دیکھیے ہونٹ تو سی لیجئے پہلے حضور حرف یاراں کی روانی دیکھیے دفن ہیں سینوں میں زخم بے بسی لکھی چہروں پر کہانی دیکھیے زندگی سے گر جی بھر کے مل لیے پھر اجل کی میزبانی دیکھیے سادگی نے میری پایا دن یہ بھی دوستوں کی ہے گرانی دیکھیے سود کی خاطر بدل جائیں نصاب حکم رب کی ترجمانی دیکھیے کب تلک مومیؔ اجالے رک سکیں گھاس پر اترا یہ پانی دیکھیے

jab bhi aafat naa-gahaani dekhiye

غزل · Ghazal

خاک میں خاک ہوئے بیٹھے ہیں اپنی پوشاک ہوئے بیٹھے ہیں چند سانسوں کے نگر والے بھی ہفت افلاک ہوئے بیٹھے ہیں ایک مدت سے تری راہوں میں خس و خاشاک ہوئے بیٹھے ہیں دیکھ ایڑی کی دراڑیں اے خدا تیرے بت چاک ہوئے بیٹھے ہیں دو نوالوں کی طلب میں کچھ لوگ مومیؔ چالاک ہوئے بیٹھے ہیں

khaak mein khaak hue baiThe hain

غزل · Ghazal

لذت ہجر کو طویل کرے درد دل کی اگر سبیل کرے بخش دے مرتبہ فضیلت کا جس کو بھی رب مرا خلیل کرے میں دیا ہوں خلوص الفت کا آندھیوں کو خدا فصیل کرے جل اٹھیں گی بجھی بجھی آنکھیں روشنی کی کوئی سبیل کرے حرص نے میلے کر دئے ہیں وجود عشق اب ذات کو جمیل کرے تو جسے چاہے اس کو عزت دے اور جسے چاہے تو ذلیل کرے ہم تو ہیں مومیؔ اب چراغ سحر رب تری زندگی طویل کرے

lazzat-e-hijr ko tavil kare

Similar Poets