
Mona Shahab
Mona Shahab
Mona Shahab
Ghazalغزل
آرزو تھی تو اضطراب بھی تھا نیند گہری تھی اور خواب بھی تھا اک بگولا تھا ریت کا پیچھے دشت میں سامنے سراب بھی تھا میری قسمت کے سرد ہاتھوں میں میرے حصے کا کچھ عذاب بھی تھا ہم سفر اس سفر میں تو ہی بتا کیا سوالوں کا کچھ جواب بھی تھا بزم میں لٹ رہے تھے مینا و جام اور عادت کا وہ خراب بھی تھا ساری دنیا کا انتخاب تھا وہ اور وہ میرا انتخاب بھی تھا تھا کبھی وقت جب ہمارا دل اک مہکتا ہوا گلاب بھی تھا کھوئی کھوئی سی اس کی آنکھوں میں مجھ کو پانے کا اک خواب بھی تھا زندگی تھی کھلی کتاب مری اور وہ صاحب کتاب بھی تھا
aarzu thi to iztiraab bhi thaa
ترک الفت تو اک بہانہ تھا وہ گیا خیر اس کو جانا تھا ہم بھی رستے میں تھک گئے تھے بہت اس کو بھی ساتھ کب نبھانا تھا رخ پہ تازہ گلاب کیا کھلتے زرد پتوں کا وہ زمانہ تھا نام لکھا تھا جو ہتھیلی پر کتنا مشکل اسے مٹانا تھا تم نے شعلہ بنا دیا مجھ کو کیا مرا ظرف آزمانا تھا دل کے لٹنے پہ شور کیا کرنا کون سا قیمتی خزانہ تھا
tark-e-ulfat to ik bahaana thaa
دن ڈھلے گھر سے نکلتے ہو کوئی بات تو ہے تم جو سڑکوں پہ ٹہلتے ہو کوئی بات تو ہے میں بھی بالوں میں سجا لیتی ہوں ہر شام گلاب تم بھی خوشبو سے بہلتے ہو کوئی بات تو ہے دن میں رہتے ہو مگن اپنے خیالوں میں کہیں شب گئے نیند میں چلتے ہو کوئی بات تو ہے باتوں باتوں میں پکڑ کے جو کبھی ہاتھ مرا بے سبب بات بدلتے ہو کوئی بات تو ہے سرد راتوں میں کھلی چھت پہ ستاروں کے تلے موم کی طرح پگھلتے ہو کوئی بات تو ہے جس طرف چلتی ہے موسم کو لیے نرم ہوا تم اسی سمت میں چلتے ہو کوئی بات تو ہے نہ بتاؤ تو کوئی بات نہیں ہے لیکن تم کسی آگ میں جلتے ہو کوئی بات تو ہے
din Dhale ghar se nikalte ho koi baat to hai





