
Moni Gopal Tapish
Moni Gopal Tapish
Moni Gopal Tapish
Ghazalغزل
کھڑکیاں سب بند کمروں اور دالانوں کے بیچ بٹ گئے پریوار آخر سینکڑوں خانوں کے بیچ مجھ کو دنیاں جان لیتی تھی کسی کے نام سے واقعے گم ہو گئے ہیں جیسے افسانوں کے بیچ میں ہوں چھوٹا تو بڑا ہوگا میں کیسے مان لوں اب یہی چرچا ہے اپنوں اور بیگانوں کے بیچ اک طرف ترک تعلق اک طرف ہے اس کی یاد ہے کہاں آساں گزرنا ایسے طوفانوں کے بیچ کھو دیا ہر شخص نے بینائی کا رد عمل ایک چٹکی دھوپ ہی پھینکی تھی دیوانوں کے بیچ
khiDkiyaan sab band kamron aur daalaanon ke biich
تیرے پلٹ آنے سے دل کو اور اک صدمہ ہوا وہ نقش اب باقی کہاں جو تھا تیرا چھوڑا ہوا یوں آج آئینے سے مل کر جسم سناٹے میں ہے اک اور ہی چہرہ تھا اس میں کل تلک ہنستا ہوا دونوں کہیں مل بیٹھ کر بہہ جائیں پل بھر کے لئے اس وقت سے ہٹ کر کے ہو دریا کوئی بہتا ہوا مشکوک آنکھوں سے نکلتے ہیں بچھڑنے کے صلے تو سوچ لے مل جاؤں گا میں تو یہیں ٹھہرا ہوا شاعر کہاں تھا صرف تھا جذبات کا تاج تپش ساحل کی سوکھی ریت میں اکثر یہی چرچا ہوا
tere palaT aane se dil ko aur ik sadma huaa
تیرے پلٹ آنے سے دل کو اور اک صدمہ ہوا وہ نقش اب باقی کہاں جو تھا ترا چھوڑا ہوا یوں آج آئینے سے مل کر جسم سناٹے میں ہے اک اور ہی چہرہ تھا اس میں کل تلک ہنستا ہوا دونوں کہیں مل بیٹھ کر بہہ جائیں پل بھر کے لیے اس وقت سے ہٹ کر کے ہو دریا کوئی بہتا ہوا مشکوک آنکھوں سے نکلتے ہیں بچھڑنے کے صلے تو سوچ لے مل جاؤں گا میں تو یہیں ٹھہرا ہوا شاعر کہاں تھا صرف تھا جذبات کا تاجر تپشؔ ساحل کی سوکھی ریت میں اکثر یہی چرچا ہوا
tere palaT aane se dil ko aur ik sadma huaa
غموں کی بھیڑ دردوں کی نگہبانی میں رہنا ہے بتا اے زندگی کب تک پریشانی میں رہنا ہے شجر کا یہ مقدر طے کرے گا باغباں سن لو اسے سر سبز ہونا ہے کہ ویرانی میں رہنا ہے میں اپنا حق بھی مانگوں تو گناہوں میں وہ شامل ہے تمہارا ظلم کب تک یوں فراوانی میں رہنا ہے وفاؤں کا صلہ کس کو ملا کب کون جانے ہے وفا کے ذکر میں ہم کو تو سلطانی میں رہنا ہے وہ اپنے قول سے واپس پلٹ جائے اسے حق ہے تپشؔ ہم کو تو اپنی بات کے پانی میں رہنا ہے
ghamon ki bhiiD dardon ki nigahbaani mein rahnaa hai
من کے آنگن میں خیالوں کا گزر کیسا ہے یہ چہکتا ہوا ویران سا گھر کیسا ہے میرا ماضی جہاں بکھرا سا پڑا ہے ہر سو اب وہ پیپل کے تلے اجڑا کھنڈر کیسا ہے سخت پتھراؤ تھا کل رات تری بستی میں دن نکلنے پہ یہ دیکھیں گے کہ سر کیسا ہے جان دینا ہے ہمیں ایک شوالے کے قریب آپ بتلائیں ذرا آپ کا در کیسا ہے دل کے مدفن میں تپشؔ دفن ہے احساس کا جسم تم نے چھوڑا جسے دیکھو وہ نگر کیسا ہے
man ke aangan mein khayaalon kaa guzar kaisaa hai
پاگل ضدی اور دیوانہ کون کہے تیرے بن میرا افسانہ کون کہے یوں کتنے ہی مجھ کو اپنا کہتے ہیں پر مجھ کو جانا پہچانا کون کہے آنکھوں آنکھوں جس کی صورت رہتی ہیں اس کو لفظوں میں بتلانا کون کہے یاد میں جس کی آنکھیں جھرنے ہو بیٹھیں اس بادل کا گھر آ جانا کون کہے آنکھیں موندوں کھل کھل جائیں پھر سپنا اس ضدی کا حق جتلانا کون کہے تپشؔ تمہیں مقطع میں لانا مشکل ہے بارش میں جذبے سلگانا کون کہے
paagal ziddi aur divaana kaun kahe





