
Monika Singh
Monika Singh
Monika Singh
Ghazalغزل
تجھے دیکھا مری آنکھوں میں جب شادابیاں آئیں تری بے مہر آنکھوں میں تبھی بے زاریاں آئیں نہ جانے اور کیا کیا کہہ رہی تھی وادیاں مجھ سے ترا جب ذکر چھیڑا تھا عجب خاموشیاں آئیں حصار یاس کی جانب صدائیں آ رہی گرچہ محض چہرے نہیں آئے کئی پرچھائیاں آئیں ہمیں شہرت بلندی تک اگر لے کے چلی آئی مگر سائے تلے اس کے کئی ناکامیاں آئیں نہیں ہے عشق پہلا سا نہ پہلی سی کشش باقی مگر اب ساتھ جینے کی کئی مجبوریاں آئیں
tujhe dekhaa miri aankhon mein jab shaadaabiyaan aaiin
دھڑکنوں کی بس زبانی دے مجھے ایک پل کو زندگانی دے مجھے چاہ کر جو نا مکمل ہو سکی وہ ادھوری سی کی کہانی دے مجھے ہو اگر ممکن تجھے اے زندگی آبشاروں سی روانی دے مجھے بوجھ زخموں کا لئے چلتی رہوں یاد کی وہ بے کرانی دے مجھے ہر بلندی سے بنیں راہیں نئی حوصلے کچھ آسمانی دے مجھے فخر سے کردار لکھیں گے مرا وقت ایسی کامرانی دے مجھے
dhaDkanon ki bas zabaani de mujhe
تیرا اثر مجھ میں نظر آتا ہے کیوں یہ سوچ کے دل اور گھبراتا ہے کیوں کوئی نہ دیکھے اشک ٹھہری آنکھوں میں چہرا مرا اتنا بھی مسکاتا ہے کیوں جب دائروں میں ہی کٹی ہے زندگی دل قید سے بے بات جھلساتا ہے کیوں تقدیر نے شاید کہانی ہو لکھی مت پوچھ ہم کو وقت ملواتا ہے کیوں بازار میں خود کو ترازو میں رکھا قیمت لگی جو دیکھ ڈر جاتا ہے کیوں
teraa asar mujh mein nazar aataa hai kyuun
محفلوں میں ذکر اس کا جب چھڑا میرے لئے پوچھتا ہر ایک سے دل کیا کہا میرے لیے کیا مراٹھی اور اردو زیست کے میزان میں ایک گھر پانی ہے تو دوجے ہوا میرے لئے جب کبھی آواز دی تو نے مجھے تو یہ لگا دیر کی ہو گھنٹیاں تیری صدا میرے لئے صفحۂ ہستی پہ لکھا بے خودی میں ایک نام سانس لینے کا سبب وہ بن گیا میرے لئے جب کہا اس نے کہ دو ہے جسم اپنے ایک جان یہ پرانا کھیل پر کھیلا نیا میرے لئے
mahfilon mein zikr us kaa jab chhiDaa mere liye
تیرے آنے کی خبر دیتی رہی پاگل ہوا تجھ تلک میری حیا لے کر گئی پاگل ہوا دھوپ کچی شام تنہا اور اندھیروں کا ہجوم ان میں اپنا عکس دکھلاتی چلی پاگل ہوا دن ڈھلے گھر لوٹ آنا قفل کرنا حسرتیں کیوں نہیں یہ ختم ہوتا سوچتی پاگل ہوا شہر میں تیرے ہیں تجھ کو بھولنے کی ضد بڑی بے سبب دل کی بڑھاتی بیکلی پاگل ہوا اب تو یہ عالم مگر وہ خوش نہیں میں بھی نہیں اس کا ہر غم مجھ سے اکثر بانٹتی پاگل ہوا لب پہ آتی بات رہ جاتی لبوں کے درمیاں عام مت کر راز دل کہہ روکتی پاگل ہوا حکمراں کہنے لگا ہے چور ہے سارے مکیں دیکھتی اہل وطن کی بے بسی پاگل ہوا
tere aane ki khabar deti rahi paagal havaa
کسی سے راز دل کہنا یہ خو رسوا کراتی ہے تری یہ بات تنہائی میں پیہم یاد آتی ہے کہ ہنس کے ٹالتے ہیں ذکر تیرا کوئی گر چھوڑے صبا پھر بھی گزشتہ راتوں کے قصے سناتی ہے نہ جانے سخت کیوں ہے دل ترا حیرت سی ہوتی ہے طلب پیغام کی تیرے مجھے اکثر رلاتی ہے بلندی پہ اگر وہ ہے تو اتنی بے رخی کیوں کر محبت میں کشش ایسی جو دوری کو مٹاتی ہے مرے برباد ہونے کا نہ کر چرچا جہاں سے تو انہیں قصوں سے اکثر بو ترے ہونے کی آتی ہے
kisi se raaz-e-dil kahnaa ye khu rusvaa karaati hai





