SHAWORDS
M

Moulana Asadullah

Moulana Asadullah

Moulana Asadullah

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

jab kisi dil mein chaah hoti hai

جب کسی دل میں چاہ ہوتی ہے روح آتش پناہ ہوتی ہے جس کی حالت تباہ ہوتی ہے اس کی صورت گواہ ہوتی ہے دل میں جب حب جاہ ہوتی ہے دل کی دنیا تباہ ہوتی ہے روح جب جلوہ گاہ ہوتی ہے روکش مہر و ماہ ہوتی ہے عشق بازی گناہ ہوتی ہے نوجوانی تباہ ہوتی ہے جس جگہ خانقاہ ہوتی ہے معصیت عذر خواہ ہوتی ہے قہر کی جب نگاہ ہوتی ہے میری حالت تباہ ہوتی ہے حسن کی جو نگاہ ہوتی ہے عشق کی شاہراہ ہوتی ہے کون ہوتا ہے مونس شب غم نالہ ہوتا ہے آہ ہوتی ہے آج آمادۂ کرم ہیں وہ بے گناہی گناہ ہوتی ہے شرح الفت کے مسئلے ہیں جدا بے گناہی گناہ ہوتی ہے حسن خود بیں کی شوخیاں توبہ بے گناہی گناہ ہوتی ہے ہجر کی رات اے معاذ اللہ ساری دنیا تباہ ہوتی ہے دل میں آتا ہے کیف کا سیلاب لطف کی جب نگاہ ہوتی ہے عہد الفت کی ہے یہی تکمیل غیر سے رسم و راہ ہوتی ہے جاگتا ہے اگر کسی کا بخت عشق میں دستگاہ ہوتی ہے ان کے کوچے میں مرنے والوں کی خلد آرام گاہ ہوتی ہے دیکھ لے منہ کے پھیرنے والے دل کی دنیا تباہ ہوتی ہے کل قیامت میں ہوگا منہ کالا آج داڑھی سیاہ ہوتی ہے زندگی جس کو لوگ کہتے ہیں حالت اشتباہ ہوتی ہے جس کو گوگرد سرخ کہتے ہیں وہ تری گرد راہ ہوتی ہے ناز کرتی ہے حسن کی فطرت عاشقی جب تباہ ہوتی ہے لیجئے آئے ہیں وہ تربت پر مہر کی کب نگاہ ہوتی ہے جس میں ہو امتیاز رنج و خوشی ایسی الفت گناہ ہوتی ہے جو گرفتار عشق ہوتا ہے اس کی صورت گواہ ہوتی ہے صبر کو جو نہ کر دے بیتابی وہ بھی کوئی نگاہ ہوتی ہے وہ بھی ہوتی ہے دیکھیے بدنام جو نظر بے گناہ ہوتی ہے گو بہت دور ہیں طفیل مگر یاد شام و پگاہ ہوتی ہے ہجر میں روشنی بھی اے اسعدؔ رشک بخت سیاہ ہوتی ہے

غزل · Ghazal

ham ne jis se bhi aashnaai ki

ہم نے جس سے بھی آشنائی کی ہم سے اس نے ہی بے وفائی کی حق بہ جانب ہو تم بجا ہے بجا میں نے کی میں نے بے وفائی کی ان سے ہم طالب وفا کیوں ہوں ہم کو عادت نہیں گدائی کی بے وفائی سے بھی وفا نہ کرو تم کو عادت ہے بے وفائی کی بے وفائی کا اس سے کیا شکوہ مجھ سے دل ہی نے بے وفائی کی زلف و عارض پہ ہم نہیں مرتے اور ہے شان دل ربائی کی شیخ کو رند کر دیا میں نے نہ چلی کچھ بھی پارسائی کی طالب وصل ہم نہ ہوں گے کبھی وصل تمہید ہے جدائی کی بے وفا بھی نہیں ہو پورے تم کوئی حد بھی ہے بے وفائی کی کیوں خجل ہوں حضور کے دشمن میں نے کی میں نے بے وفائی کی شان پیدا ہے تیرے پرتو سے ذرہ ذرہ میں خود نمائی کی جس قدر ہم نے کی وفا تم سے اس قدر تم نے بے وفائی کی کس کا ذکر وفا کریں اسعدؔ جس نے کی ہم سے بے وفائی کی

غزل · Ghazal

koi tadbir kaargar na hui

کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی شاخ امید پر ثمر نہ ہوئی بڑھ گیا اور درد سوز و گداز کارگر فکر چارہ گر نہ ہوئی تاب نظارہ کوئی لا نہ سکا اس لئے آپ کو نظر نہ ہوئی کون سے دن ترے تصور سے میری شب روکش سحر نہ ہوئی جس کو دیکھا اسی کا کام کیا تیغ براں ہوئی نظر نہ ہوئی اس کو منزل کی کیا خبر جس کی نگہ لطف راہبر نہ ہوئی سعیٔ بیکار کا مزہ آیا کامیابی ہمیں اگر نہ ہوئی بے خودی کا کوئی ٹھکانا ہے کوئی آیا ہمیں خبر نہ ہوئی جس نے اس کی کوئی خبر پائی اس کو اپنی کبھی خبر نہ ہوئی اس کو کیا عید کا مزہ آیا عید جس غم زدہ کی گھر نہ ہوئی ہجر کی شب بھی کیا قیامت تھی عمر گزری مگر سحر نہ ہوئی لطف سے جس نے تم کو دیکھ لیا اس کو تسکین عمر بھر نہ ہوئی نالہ شرمندۂ کشش نہ ہوا آہ منت‌ کش اثر نہ ہوئی عمر بھر روز و شب گزرتے رہے ختم روداد غم مگر نہ ہوئی جان جن کو عزیز تھی اسعدؔ ان سے طے راہ پر خطر نہ ہوئی

Similar Poets