
Muazzama Naqwi
Muazzama Naqwi
Muazzama Naqwi
Ghazalغزل
dard saanche mein jis ne Dhaalaa hai
درد سانچے میں جس نے ڈھالا ہے جس نے ہر اک بلا کو ٹالا ہے دل سنبھالے نہیں سنبھلتا تھا اس نے کیا خوب دل سنبھالا ہے چین کس طرح مل سکے گا تمہیں تم نے خود خواہشوں کو پالا ہے اب میں اس کی ہوں جو نہیں میرا دل کا ہر فیصلہ نرالا ہے جو رگ جاں میں کل تلک تھا مکیں اب ہتھیلی کا میری چھالا ہے جس کو کہتے ہیں سب عدو میرا وہ مری آستیں کا پالا ہے کیسی جمہوریت ہے یہ آخر دیکھو ہر اک زباں پہ تالا ہے جو بضد تھے مجھے ہرانے پر ان کا رسوائیوں سے پالا ہے سچ تو اب سرنگوں ہوا نقویؔ جھوٹ کا آج بول بالا ہے
ye be-rukhi hai kaisi tumhaari nigaah mein
یہ بے رخی ہے کیسی تمہاری نگاہ میں شاید کہیں کمی تھی ہماری ہی چاہ میں لمحے وہ سب حسیں تھے بہت دل گداز تھے گزرے جو خواب بن کے تمہاری پناہ میں ایسا بھی کیا کہ تم کو محبت نہ ہو سکی ایسا بھی کیا کہ ہم نہ جچے ہیں نگاہ میں کھلتے ہیں مر کے ہم پہ سبھی راز زندگی جینا تو اک پڑاؤ ہے منزل کی راہ میں نقویؔ کا انتساب ہے اس شخصیت کے نام رکھا ہے جس نے دل کا صحیفہ پناہ میں
apni har ik adaa mein bahut dil-nashin thaa
اپنی ہر اک ادا میں بہت دل نشین تھا وہ قتل کر کے میرے ہی دل کا مکین تھا یہ تھا فریب حسن یا حسن فریب تھا ہر سنگ رہ گزر جو ملا وہ حسین تھا روشن تھے میری آنکھوں میں ہر سو چراغ شوق ہستی سراب تھی ترا ملنا یقین تھا فطرت میں بے وفائی تھی لیکن مرے لئے خوشبو بکھیرتا ہوا لہجہ امین تھا سچا ہو عشق جیسے زلیخا کا عشق تھا چہرہ ہو جیسے چہرۂ یوسف حسین تھا نقویؔ جو مسکراتا رہا دل کو توڑ کے اس کے ہر ایک مکر پہ صد آفرین تھا
tiri aankh kaa jab ishaara milaa
تری آنکھ کا جب اشارہ ملا مری کشتیوں کو کنارا ملا وہ اک شخص ہم سے جدا ہو گیا وہ اک شخص جو سب سے پیارا ملا مری روح تک وہ اتر سا گیا مری زندگی کو سہارا ملا مری ہر خوشی اس پہ قربان ہے خوشی یہ مجھے غم تمہارا ملا ملن کے سبھی راستے بند ہیں وہ نقویؔ نہ مجھ کو دوبارہ ملا
kaash mujh ko tire hone kaa sahaaraa hotaa
کاش مجھ کو ترے ہونے کا سہارا ہوتا میرے دریائے تمنا کا کنارا ہوتا مان رکھا نہ گیا تجھ سے مری الفت کا لے کے دل تو نے مرے منہ پہ نہ مارا ہوتا زندگی اپنی محبت میں حسیں ہو جاتی عمر بھر کے لئے اک شخص ہمارا ہوتا میرے آنچل نے ہوا کو بھی کیا ہے مہمیز کاش زلفوں کو کبھی اپنی سنوارا ہوتا اجنبی بن کے نہ شہروں میں یوں پھرتے نقویؔ دل سے اک شخص اگر آج ہمارا ہوتا





