Mubarak Haider
میں شجر ہوں اپنے سائے کا صلہ لیتا نہیں خوشہ چیں ہو یا مسافر شکریہ کہتا نہیں سچ ہی کہتے ہو کہ جتنا وہ ہے میں اتنا نہیں شاید اچھا ہے کہ جیسا وہ ہے میں ویسا نہیں اک مسافر کی طرح ہوں کوئی گھر میرا نہیں دل میں کچھ آزار ہیں یا شہر ہی اچھا نہیں بارش آئی دھل گئے آنکھوں کے ویراں طاقچے شام تھک کر سو گئی ماہ تمام آیا نہیں تیرے حرف تلخ سے اس دل میں جتنے داغ ہیں روکتے ہر بار ہیں لیکن رہا جاتا نہیں رونے والے رائیگاں کی ریت پر محنت نہ کر نرم رت کا پھول ہے دل آگ میں کھلتا نہیں
main shajar huun apne saae kaa sila letaa nahin