
Mubarik Siddiqi
Mubarik Siddiqi
Mubarik Siddiqi
Ghazalغزل
maalum agarche hai ki mausam ye kaDaa hai
معلوم اگرچہ ہے کہ موسم یہ کڑا ہے دل پھر بھی گلابوں کے لئے ضد پہ اڑا ہے یاد آئے ہیں پھر لوگ مجھے شہر جفا کے اک تیر ستم یوں بھی میرے دل میں گڑا ہے وہ جس سے عبادت کی طرح کی تھی محبت وہ شخص زمانے کے لئے مجھ سے لڑا ہے میت کو مری دیکھ کے بولا وہ ستم گر اٹھ جائے گا پھر سے یہ اداکار بڑا ہے جس موڑ پہ بدلی تھی ڈگر اس نے مبارکؔ کہنا کہ اسی موڑ پہ دیوانہ کھڑا ہے
koi dard hai jo abhi davaa nahin ho sakaa
کوئی درد ہے جو ابھی دوا نہیں ہو سکا وہ بچھڑ گیا ہے مگر جدا نہیں ہو سکا کوئی ہے خلش جو کھٹک رہی ہے ابھی مجھے کوئی شعر ہے جو ابھی بپا نہیں ہو سکا وہ ملے اگر تو اسے کہوں اے گلاب شخص کوئی تجھ سا کیا تری خاک پا نہیں ہو سکا ترے بعد پھر مری موسموں سے بنی نہیں ترے بعد میں کبھی پھر ہرا نہیں ہو سکا سر بزم ہیں یہی تذکرے کہ برا ہوں میں مرا جرم ہے کہ میں بے وفا نہیں ہو سکا اسی بات پر مری دوستوں سے ہے دشمنی میں امیر شہر کا ہم نوا نہیں ہو سکا کسی اور شب میں سناؤں گا یہ غزل تمہیں ابھی آنکھ نم ابھی دل دعا نہیں ہو سکا ترے عشق میں کوئی جاں بھی لے تو بھی جان جاں میں یہی کہوں گا کہ حق ادا نہیں ہو سکا
khizaan ki rut mein gulaab lahja banaa ke rakhnaa kamaal ye hai
خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا کمال یہ ہے ہوا کی زد پہ دیا جلانا جلا کے رکھنا کمال یہ ہے ذرا سی لغزش پہ توڑ دیتے ہیں سب تعلق زمانے والے سو ایسے ویسوں سے بھی تعلق بنا کے رکھنا کمال یہ ہے کسی کو دینا یہ مشورہ کہ وہ دکھ بچھڑنے کا بھول جائے اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چھپا کے رکھنا کمال یہ ہے خیال اپنا مزاج اپنا پسند اپنی کمال کیا ہے جو یار چاہے وہ حال اپنا بنا کے رکھنا کمال یہ ہے کسی کی رہ سے خدا کی خاطر اٹھا کے کانٹے ہٹا کے پتھر پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا کمال یہ ہے وہ جس کو دیکھے تو دکھ کا لشکر بھی لڑکھڑائے شکست کھائے لبوں پہ اپنے وہ مسکراہٹ سجا کے رکھنا کمال یہ ہے
kuchh aise log bhi duniyaa mein paae jaate hain
کچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں جہاں بھی جائیں دئے ہی جلائے جاتے ہیں یہ آزمائشیں یوں ہی عطا نہیں ہوتیں جو لوگ خاص ہوں وہ آزمائے جاتے ہیں ہمیں حسین سے پیغمبروں سے نسبت ہے ہمارے اس لئے بھی دل دکھائے جاتے ہیں وہ شخص صورت خورشید جب نکلتا ہے تو رنگ و نور میں ہم بھی نہائے جاتے ہیں اسے بھی پیار ہے ان سے جو دل شکستہ ہوں سو اس کی بزم میں ہم بھی بلائے جاتے ہیں میں اپنے دل سے پریشان ہوں کدھر جاؤں جو بے وفا تھے اسے یاد آئے جاتے ہیں تو کل ملا کے مجھے بات یہ سمجھ آئی جو نیک لوگ ہوں اکثر ستائے جاتے ہیں دعا سلام نہ حد ادب نہ عجز و خلوص یہ میرے شہر میں اب کون آئے جاتے ہیں عجیب لوگ ہیں شاعر بھی یہ خدا جانے کوئی سنے نہ سنے یہ سنائے جاتے ہیں مرا یقین ہے یہ خامشی یہ گہرا سکوت یہ لوگ خود نہیں آتے یہ لائے جاتے ہیں
shaam-e-gham aaj zaraa aise manaa li jaae
شام غم آج ذرا ایسے منا لی جائے بے سبب ایک غزل اور سنا لی جائے حاکم وقت کو دیکھوں تو دعا کرتا ہوں اتنی عزت دے خدا جتنی سنبھالی جائے میرے مولا وہ خسارے کے سوا کچھ بھی نہیں ہر وہ لمحہ جو تری یاد سے خالی جائے گر مرے ہاتھ میں آ جائے الادیں کا چراغ گھر کا مزدور کوئی ہاتھ نہ خالی جائے حد سے بھی بڑھ کے ضروری ہے دعائیں کرنا اور اس سے بھی ضروری ہے دعا لی جائے پوچھتا کیا ہے کمائی کا ترے شہر میں دوست یہ بھی دولت ہے کہ عزت ہی بچا لی جائے آؤ سجدے میں کریں بات مبارکؔ اس سے جس کے در سے نہ کوئی خالی سوالی جائے
sahraa-sahraa kahne se gulzaar badalte naiin
صحرا صحرا کہنے سے گلزار بدلتے نئیں دیکھ کے تیور دشمن کے ہم یار بدلتے نئیں بات تو یہ ہے بندے کے کردار سے خوشبو آئے گوچی باس لگانے سے کردار بدلتے نئیں گھر کی زینت گھر والوں کی عزت پیار سے ہے لینڈ کروزر پورشے سے گھر بار بدلتے نئیں جن کی فطرت میں ہو ڈسنا ڈس کے رہتے ہیں بی اے ایم اے کرنے سے افکار بدلتے نئیں بات تو تب ہے کعبۂ دل کا کرنے لگے طواف رسمی عمرے کر کے دنیا دار بدلتے نئیں ایسا ہے کہ ایسا ویسا اور نہیں ہے کچھ بھی ایسا ہے کہ کچھ بھی ہو ہم پیار بدلتے نئیں دانش مندی ہے وہ کرنا جو بھی کہے طبیب نسخے جیب میں رکھنے سے بیمار بدلتے نئیں جو ہیں اپنے وہ ہر حال میں اپنے رہتے ہیں ہم موسم کو دیکھ کے رشتے دار بدلتے نئیں اکثر تنہا رہ جاتے ہیں تیز مزاج وہ لوگ دیکھ کے چال جو اپنوں کی رفتار بدلتے نئیں بارش کی صورت جو اتریں وہ ہی لکھے جائیں اس کے بعد مبارکؔ کے اشعار بدلتے نئیں





