SHAWORDS
Mubashir Samad Gauri

Mubashir Samad Gauri

Mubashir Samad Gauri

Mubashir Samad Gauri

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

zahaanat dekhnaa hai baaghbaan ki

ذہانت دیکھنا ہے باغباں کی خبر ہے آمد دور خزاں کی بہت آسانیوں میں جی لئے ہم کہاں اچھی کٹی ہم عاصیاں کی کسی کے سامنے کیوں حق نہیں ہے بصارت کھو گئی کیا کل جہاں کی بڑی حیرت ہے دریا نے ہی لی ہے ضمانت ناگہاں آتش فشاں کی اسی سے عدل کی خواہش تھی ہم کو اسی نے بات کر دی درمیاں کی مری خوشیوں کو قصداً چھوڑ آیا شرارت دیکھیے عہد رواں کی سنو صیاد اب پنچھی قفس کا طوالت پوچھتا ہے آسماں کی مقدر ہے ملا مر کر ہی ورنہ ضرورت کب نہیں تھی آشیاں کی یقیناً آج وہ نکلا ہے گھر سے خبر آئی ہے عید عاشقاں کی ہوا نے کیا ہلایا تیرا آنچل طبیعت کھل گئی آشفتگاں کی یوں ہی آئی کہاں ہے یاد اس کی صدا اٹھی ہے پھر سے کن‌ فکاں کی اچانک سامنے وہ آ گئے ہیں گھڑی پھر آ گئی لو امتحاں کی فقط ہوں بول کر وہ رک گیا تھا بڑی مدحت ہوئی طرز بیاں کی کہاں شہرت مقدر میں تھی غوریؔ اڑائی خاک ہے تم نے کہاں کی

غزل · Ghazal

aa bhi jaao qarib se dekho

آ بھی جاؤ قریب سے دیکھو کیسے ہارا نصیب سے دیکھو یہ تو سب عشق کے مراحل ہیں کچھ نہ کہنا طبیب سے دیکھو دکھ ہی جائے گا مقتل حسرت تم بھی چشم غریب سے دیکھو وقت رخصت کا اصل نظارہ جاؤ جا کر صلیب سے دیکھو رکھ کے چہرے پہ وہ نیا چہرہ مل گیا پھر رقیب سے دیکھو راز دل ہی حیات ہے غوریؔ بچ کے رہنا مصیب سے دیکھو

غزل · Ghazal

sab ne bhar li uDaan dariyaa mein

سب نے بھر لی اڑان دریا میں دیکھ کر آسمان دریا میں خط سلامت رہا تمہارا مگر بہہ گئے سب بیان دریا میں اشک میری نظر سے کیا اترا ڈال دی اس نے جان دریا میں کہہ گئیں تیرتی ہوئی لاشیں ظلم کی داستان دریا میں سر بہ سجدہ ہی پار ہوں گے اب وہ غضب ہے اٹھان دریا میں ہم تو محتاط تھے مگر کشتی چھوڑ آئی نشان دریا میں موج اٹھتی ہے تیر سی اب تو کس نے پھینکی کمان دریا میں بچ کے پودے خزاں کی نظروں سے ہو گئے ہیں جوان دریا میں کس نے تعمیر کر دئے غوریؔ مچھلیوں کے مکان دریا میں

غزل · Ghazal

meri pahchaan ho gai ho kyaa

میری پہچان ہو گئی ہو کیا تم بھی ویران ہو گئی ہو کیا کچھ تو اپنی خبر بھی رکھا کرو تم مری جان ہو گئی ہو کیا کیا میں اظہار عشق پھر سے کروں پھر سے انجان ہو گئی ہو کیا میرے خوابوں میں جتنا آتی ہو اتنی شیطان ہو گئی ہو کیا بے سبب اتنا جو تڑپتی ہو تم مری جان ہو گئی ہو کیا تم کو دیکھا تو جام پھینک دیا ماہ رمضان ہو گئی ہو کیا تم کو پڑھنے لگا رقیب مرا بہت آسان ہو گئی ہو کیا غوریؔ مر کر یہ اس سے پوچھوں گا تم بھی بے جان ہو گئی ہو کیا

غزل · Ghazal

'aalam na puchho kyaa thaa fazaaon kaa raat phir

عالم نہ پوچھو کیا تھا فضاؤں کا رات پھر دامن سلگ رہا تھا ہواؤں کا رات پھر دیوار و در بھی کمرے کے نمناک ہو گئے چھیڑا تھا ذکر تیری وفاؤں کا رات پھر کیسے لگائیں عرضیاں تیرے وصال کی کرتے رہے حساب دعاؤں کا رات پھر زار و قطار آنکھ سے برسات دیکھ کر چہرہ اتر گیا تھا گھٹاؤں کا رات پھر ان میں مداوا عشق کا اک بار پھر نہ تھا کرنا پڑا علاج دواؤں کا رات پھر زخموں کے روح تک بھی نشانات ہیں ملے اک دور وہ چلا تھا سزاؤں کا رات پھر تنہائی ہجر ساغر و مینا اور اس کی یاد کمرے میں تھا ہجوم بلاؤں کا رات پھر غوریؔ تمام وصل کے امکان مٹ گئے وہ معرکہ ہوا تھا اناؤں کا رات پھر

غزل · Ghazal

yaqinan mire ham-zabaan aur bhi hain

یقیناً مرے ہم زباں اور بھی ہیں محبت کے مارے یہاں اور بھی ہیں لئے ہاتھ میں برچھیاں اور بھی ہیں ہمارے یہاں مہرباں اور بھی ہیں مٹائے تھے جن سے سوالات تم نے ان آنکھوں میں کچھ عرضیاں اور بھی ہیں یہ مجنوں پہ فرہاد پر ختم کب ہیں وفاؤں کے قصے میاں اور بھی ہیں قرابت سے جسموں کی یک جاں نہ ہوں گے کئی فاصلے درمیاں اور بھی ہیں جو اس نے کہا ہے مشارق مغارب یقیناً کہیں بستیاں اور بھی ہیں

Similar Poets