Mubashshir Qureshi
is tarh dil hai daagh-e-tamannaa liye hue
اس طرح دل ہے داغ تمنا لئے ہوئے جیسے کلیم ہوں ید بیضا لئے ہوئے آئے تو کوئی طور کا جلوہ لیے ہوئے بیٹھے ہیں ہم بھی چشم تماشا لئے ہوئے لطف یقین وعدۂ فردا نہ پوچھئے بس جی رہے ہیں ایک سہارا لئے ہوئے آنکھوں میں اشک دل میں خلش اور جگر میں داغ اٹھے ہیں بزم ناز سے کیا کیا لئے ہوئے خلوت میں ہم کو سیر دو عالم نصیب ہے اپنی نظر ہے بزم تماشا لئے ہوئے یہ جلوہ گاہ حشر کہاں اور ہم کہاں آئے ہیں صرف تیری تمنا لئے ہوئے رنگ تضاد گلشن ہستی نہ پوچھئے کانٹا ہے پھول پھول ہے کانٹا لئے ہوئے یوں اس کی یاد ہے دل صد چاک میں مرے جس طرح نے ہے سینے میں نغمہ لئے ہوئے بدنام زندگی کو مبشرؔ نہ کیجیے پھرتے ہیں آپ حسرت رسوا لئے ہوئے