
Muhammad Asim Shehzad
Muhammad Asim Shehzad
Muhammad Asim Shehzad
Ghazalغزل
zindagi aur koi dard nayaa ho to bataa
زندگی اور کوئی درد نیا ہو تو بتا کوئی شعلہ مرے سینے میں جلا ہو تو بتا میں زمانے کے اشاروں پہ نہیں چل سکتا کوئی رستہ جو مری ضد سے بڑا ہو تو بتا میں نے ہر موڑ پہ خود کو ہی کھڑا پایا ہے کوئی سایہ جو مرے ساتھ چلا ہو تو بتا میں نے مانا کہ یقیں خواب میں ڈھل جاتا ہے مگر اک خواب حقیقت میں ڈھلا ہو تو بتا عاصمؔ اک عمر گنوا دی ہے فقط سوچ میں ہی کچھ اگر سوچ سے باہر بھی بچا ہو تو بتا
sahaaraa kab milaa phir bhi guzaaraa kar liyaa ham ne
سہارا کب ملا پھر بھی گزارا کر لیا ہم نے محبت تیری دنیا سے کنارا کر لیا ہم نے یہاں معنی بکھر جاتے تھے لفظوں کے تماشے میں خموشی کو ہی آخر استعارہ کر لیا ہم نے سمجھ آیا کہ خود سے ہی لڑائی تھی پرانی سی اسی الجھن کو جینے کا خسارہ کر لیا ہم نے جو ٹوٹا خواب آنکھوں میں سمیٹا خاک نے اس کو اسی مٹی کو جینے کا سہارا کر لیا ہم نے کہاں ممکن کہ لوٹ آتا پرانی سی انا میں اب مگر یہ حوصلہ عاصمؔ دوبارہ کر لیا ہم نے





