
Muhammad Atiq Ahmad
Muhammad Atiq Ahmad
Muhammad Atiq Ahmad
Ghazalغزل
manzilon ke shauq mein paagal rahi hai zindagi
منزلوں کے شوق میں پاگل رہی ہے زندگی بے نشاں رستوں پہ کب سے چل رہی ہے زندگی گو تمہاری آنکھ سے اوجھل رہی ہے زندگی لمحہ لمحہ کس قدر بے کل رہی ہے زندگی وادیٔ ناراں کی یخ بستہ فضا کو کیا خبر کس طرف دامان ہے کیوں جل رہی ہے زندگی سانس کو روکے کھڑا ہوں میں مگر یہ دیکھیے کس طرح اپنی ڈگر پہ چل رہی ہے زندگی تجھ سے جب آنکھیں ملی تھیں دل سے آئی تھی صدا عمر گزری ہے مگر اس پل رہی ہے زندگی مدتوں کے بعد دیکھا ہے اسے میں نے عتیقؔ کھل رہا ہے مجھ پہ جیسے پھل رہی ہے زندگی
main apni sochon mein ek dariyaa banaa rahaa thaa
میں اپنی سوچوں میں ایک دریا بنا رہا تھا جو ٹوٹی پھوٹی سی کشتیوں کو چلا رہا تھا تمہارے جانے کے بعد بالکل ہنسا نہیں میں شکستہ پا ہو کے اپنے اندر کو کھا رہا تھا وہ بند کمرے میں میری یادیں پرو رہی تھی میں بزم امکاں سے خواب جس کے اٹھا رہا تھا مری نگہ میں یہ ایک منظر رکا ہوا ہے کہ ایک صحرا تھا اور دریا بنا رہا تھا وہ تیرے آنے کی تھی خوشی کہ عتیق احمدؔ جو گھر میں قیدی تھے سب پرندے اڑا رہا تھا
qurbaton mein kho gayaa ki faaslon mein kho gayaa
قربتوں میں کھو گیا کہ فاصلوں میں کھو گیا قافلہ امکان کا کن راستوں میں کھو گیا ایک ہی رستہ ملا تھا تجھ تک آنے کے لیے اور میں اس راستے کی مشکلوں میں کھو گیا پھر سخن کے دائرے میں آ گیا تیرا خیال پھر فعولن فاعلن کے سلسلوں میں کھو گیا گو کہ میرے سامنے وہ جھیل سی آنکھیں نہ تھیں میں مگر ان کے خیالی منظروں میں کھو گیا پھول ہیں احمدؔ کہاں اس گلشن برباد میں پھر یہ نخل دل خزاں کی وسعتوں میں کھو گیا
main apni khaak ko jab aaina banaataa huun
میں اپنی خاک کو جب آئنہ بناتا ہوں تو اس کے واسطے دل بھی نیا بناتا ہوں ہر اک پرند رہے تا ابد یہاں شاداب اسی لئے میں شجر بھی ہرا بناتا ہوں بھٹک نہ جائے کہیں شہر غم میں اپنا دل سو تیرے خواب کو میں رہنما بناتا ہوں کرے نہ کیوں یہ ترے دل میں گھر مرے ہمدم میں اپنے شعر کو درد آشنا بناتا ہوں میں پہلے بھرتا ہوں اس دل میں وحشتیں اور پھر سواد دشت کو بھی ہم نوا بناتا ہوں وہ فاعلات و مفاعیل کے نہیں بس میں میں اپنے شعر میں جو زاویہ بناتا ہوں تلاش کرتی ہیں خود منزلیں جسے احمدؔ میں دشت شوق میں وہ راستہ بناتا ہوں
khile hain phuul usi rang ki sataaish mein
کھلے ہیں پھول اسی رنگ کی ستائش میں جو بے مثال رہا آپ اپنی تابش میں وہ ایک دن ہی مری زندگی کا حاصل ہے کہ میرے پاس کوئی رک گیا تھا بارش میں بس ایک جھیل ہے اور پیڑ کا گھنا سایا سلگ رہے ہیں کئی لوگ جن کی خواہش میں کبھی ہوا جو کہیں پر غزل سرا میں بھی تو میرے یار جلے ہیں حسد کی آتش میں میں جس کو سوچتا رہتا ہوں رات دن احمدؔ اسی نے رنگ بھرے ہیں مری نگارش میں
khvaab-e-sahar kaa dekhne vaalaa to main bhi huun
خواب سحر کا دیکھنے والا تو میں بھی ہوں سورج نہیں ہوں شام کا تارا تو میں بھی ہوں یوسف کو دیکھتا ہوں میں چشم زلیخا سے گوہر نہیں گہر کا شناسا تو میں بھی ہوں دریا کے ساتھ چلنا گوارا نہیں مجھے بہتا ہوں اپنی رو میں کہ دھارا تو میں بھی ہوں دیکھا نہیں کسی نے بھی میری طرف مگر آنکھوں کی راہ گزار سے گزرا تو میں بھی ہوں دریا کو میں بھی دریا سمجھتا ہوں دوستو ڈوبا اگر نہیں ہوں سفینہ تو میں بھی ہوں وحشت مرے سپرد بھی کر مجھ سے بھی تو مل صحرا نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو میں بھی ہوں





