SHAWORDS
Muhammad Raza Hyderi

Muhammad Raza Hyderi

Muhammad Raza Hyderi

Muhammad Raza Hyderi

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

ham jis ki bund-bund ko tarse chalaa gayaa

ہم جس کی بوند بوند کو ترسے چلا گیا وہ ہم پہ اس سے قبل کہ برسے چلا گیا احباب اس کو واپسی لینے نکل پڑے غربت کا بھوت جب مرے گھر سے چلا گیا تب سے یہ دھوپ میرے مقدر میں آ گئی سایہ جب ایک پیڑ کا سر سے چلا گیا تجھ سے ملوں گا سوچ کے آیا تھا میں مگر کچھ پل ٹھہر کے میں ترے در سے چلا گیا پنچھی شجر کی شاخ پہ بیٹھے تو دیر تک تنہائیوں کا بوجھ شجر سے چلا گیا میں نے یہ زندگی کا خلاصہ لکھا رضاؔ آیا ادھر سے اور ادھر سے چلا گیا

غزل · Ghazal

ishq tujh ko kabhi huaa hi nahin

عشق تجھ کو کبھی ہوا ہی نہیں کیا مری جان یہ تباہی نہیں جس کو مانگا تھا عمر بھر کے لیے وہ مجھے عمر بھر ملا ہی نہیں لاپتہ ہوں میں جس کی چاہت میں مجھ کو اس کا پتہ پتہ ہی نہیں یوں اچانک مجھے وہ چھوڑ گیا ساتھ جیسے کبھی وہ تھا ہی نہیں زندگی ہاتھ جوڑتی ہے مگر کہہ رہا ہے ہر اک سپاہی نہیں کیا ترے پاس مفلسی ہے بتا گر مرے پاس بادشاہی نہیں جو مرے ساتھ ہو رہا ہے یہاں مجھ کو منظور یا الٰہی نہیں

غزل · Ghazal

sabhi amiron ke taaj khatre mein aa gae the

سبھی امیروں کے تاج خطرے میں آ گئے تھے کچھ ایسے سکے ہمارے کاسے میں آ گئے تھے ہمیں بھی فاقہ کشی نے کافر بنا دیا ہے خیال روٹی کے آج سجدے میں آ گئے تھے تمہارے آنگن کی تتلیاں تھیں ہمارے گھر میں ہمارے جگنو تمہارے کمرے میں آ گئے تھے گیا جو مندر تو پھر نہ مسجد کی چھت پہ بیٹھا مزاج لوگوں کے اک پرندے میں آ گئے تھے کسی بھی گوشے میں چاہتوں کی تپش نہیں تھی وہ تیرا دل تھا یا سرد خانے میں آ گئے تھے میں آدھا پڑھ کر وفا کے قصے کو چھوڑ آیا تمہاری بستی کے لوگ قصے میں آ گئے تھے بچھڑتے لمحے جو اشک ہاتھوں پہ آ گرا تھا تمام دریا اس ایک قطرے میں آ گئے تھے اسے محبت کی پائمالی نہیں کہو گے رضاؔ وہ ملنے کسی کے صدقے میں آ گئے تھے

غزل · Ghazal

jahaan pe chhoDi thi baat dil ki vahin se jaari zarur karte

جہاں پہ چھوڑی تھی بات دل کی وہیں سے جاری ضرور کرتے اگر وہ سنتا ہماری باتیں تو بات ساری ضرور کرتے خدا سے فرصت نہیں ملے گی خدا کے بندوں کو آج ورنہ خدا کے بندے خدا کی خاطر مدد ہماری ضرور کرتے عذاب دوزخ کا خوف بھی ہے حصول جنت کا شوق بھی ہے جو یہ نہ ہوتے تو دل سے پوجا یہ سب پجاری ضرور کرتے اب اور ہمت نہیں ہے ہم میں تمہاری چالوں سے تھک چکے ہیں یقین تم پر ذرا بھی ہوتا تو پھر سے یاری ضرور کرتے کسی نے پوچھا کہ آپ ہوتے تو جان ہم پر نثار کرتے دماغ میں تھا کبھی نہ کرتے زباں پکاری ضرور کرتے لبوں کو سی کر غموں کو پی کر بھرم محبت کا رکھ لیا ہے وگرنہ لے لے کے نام تیرا ہم آہ و زاری ضرور کرتے

غزل · Ghazal

na kisi jin se na haivaan se Dar lagtaa hai

نہ کسی جن سے نہ حیوان سے ڈر لگتا ہے آج کے دور میں انسان سے ڈر لگتا ہے روز مرنے کی خبر آتی ہے رب کے گھر سے اب تو مسجد کے ہر اعلان سے ڈر لگتا ہے اے خدایا مری آنکھوں کو سمندر کر دے شہر والوں کو بیابان سے ڈر لگتا ہے ہم کو اللہ کے بندوں سے کوئی خوف نہیں ہم کو کافر سے مسلمان سے ڈر لگتا ہے مطمئن ہوں کہ مرا ساتھ نبھاؤ گے مگر دور ہو جانے کے امکان سے ڈر لگتا ہے پھر نہ رشتہ کوئی آیا ہو جواں بیٹی کا گھر میں آتے ہوئے مہمان سے ڈر لگتا ہے مجھ کو آزاد کرو مجھ کو بکھرنا ہے رضاؔ میں وہ گل ہوں جسے گلدان سے ڈر لگتا ہے

غزل · Ghazal

na jaane kyon vahi jiinaa haraam karte hain

نہ جانے کیوں وہی جینا حرام کرتے ہیں کہ جن کا دل سے بہت احترام کرتے ہیں تمہارا ذکر کسی بات میں اگر آئے ہم ہاتھ جوڑ کے قصہ تمام کرتے ہیں ہمیں ہے اس لیے اردو زبان سے الفت ہم اس زبان میں رب سے کلام کرتے ہیں ہمارا مرتبہ صحرائے عشق میں یہ ہے جناب قیس بھی جھک کر سلام کرتے ہیں کئی ہیں لوگ جو جیتے ہیں کام کی خاطر کئی ہیں لوگ جو جینے کو کام کرتے ہیں خدا گواہ ہے پستی میں رہنے والوں پر بڑا ہی ظلم یہ عالی مقام کرتے ہیں رضاؔ وہ غم بھی ہمیں ٹھیک سے نہیں دیتا ہم اپنی ساری خوشی جس کے نام کرتے ہیں

Similar Poets