SHAWORDS
Muhib Kausar

Muhib Kausar

Muhib Kausar

Muhib Kausar

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

jahaan-e-taaza ke afkaar saath le jaao

جہان تازہ کے افکار ساتھ لے جاؤ مری غزل مرے اشعار ساتھ لے جاؤ قدم قدم پہ یہاں ڈگریاں تو ملتی ہیں خدا کے واسطے معیار ساتھ لے جاؤ رہ حیات میں انسانیت بھی بکتی ہے ذرا سنبھال کے کردار ساتھ لے جاؤ دیار غیر میں پوچھے گا خیریت کوئی تم اپنے شہر کا اخبار ساتھ لے جاؤ دلوں کے بیچ جہاں ہو عداوتوں کی خلیج وہاں خلوص کی پتوار ساتھ لے جاؤ

غزل · Ghazal

us kucha-e-dildaar kaa charchaa bhi bahut hai

اس کوچۂ دل دار کا چرچا بھی بہت ہے لٹنے کا اسی راہ میں خطرہ بھی بہت ہے مانا کہ سفر میں تو کڑی دھوپ ہے لیکن سر پر مرے ماں باپ کا سایا بھی بہت ہے اس دور جنوں خیز میں ہر چیز ہے ارزاں اس دور کے بازار میں دھوکہ بھی بہت ہے تم ظاہری اسباب پہ مغرور ہو لیکن مجھ کو مرے خالق پہ بھروسہ بھی بہت ہے اس کی تو کسی سے بھی طبیعت نہیں ملتی وہ بھیڑ میں رہتا ہوا تنہا بھی بہت ہے کرتا ہے مرے سامنے وہ میری خوشامد در پردہ مرے نام سے جلتا بھی بہت ہے اک عمر گزاری تھی بڑی شان سے جس نے کوثرؔ وہ مرے شہر میں رسوا بھی بہت ہے

غزل · Ghazal

phikaa phikaa hai rang kaajal kaa

پھیکا پھیکا ہے رنگ کاجل کا کیا ارادہ ہے آج بادل کا میرے تلووں نے خار چن ڈالے لطف باقی رہا نہ جنگل کا حسن مغرور ہو گیا ہے اب ایک ٹیکہ لگا کے صندل کا شیخ آتے ہیں اس طرف شاید کاگ اڑنے لگا ہے بوتل کا میرے قاتل کی سادگی دیکھو راستہ پوچھتا ہے مقتل کا

غزل · Ghazal

vaqt ki dhuup mein jiine ki sazaa paai hai

وقت کی دھوپ میں جینے کی سزا پائی ہے دشت احساس میں کانٹوں سے شناسائی ہے اس کا انداز تکلم ہے بڑا ترش مگر اس کے ہر لفظ میں اک نکتۂ دانائی ہے بھول جانے کا بھی احساس ستائے گا بہت یاد کرتا ہوں تو اندیشۂ رسوائی ہے تیری قربت کا بھی احساس ہوا ہے مجھ کو چاندنی شہر بدن میں جو اتر آئی ہے میں نے دیکھے ہیں محبت کے زمانے کوثرؔ میری آنکھوں میں اسی دور کی بینائی ہے

غزل · Ghazal

saaf-goi raasti achchhi lagi

صاف گوئی راستی اچھی لگی بات اس کو واقعی اچھی لگی انتہائے درد و غم کے باوجود تہمت آوارگی اچھی لگی کون جانے ذہن کی بے مائیگی شکل و صورت ظاہری اچھی لگی شہر کے آرائشی ماحول میں گاؤں کی اک سانولی اچھی لگی آدمی اندر کا میرے مر گیا مجھ کو اپنی خودکشی اچھی لگی

غزل · Ghazal

ba-zaahir un se nafrat ho rahi hai

بظاہر ان سے نفرت ہو رہی ہے حقیقت میں محبت ہو رہی ہے زمیں پر آ رہے ہیں زلزلے بھی جو فطرت سے بغاوت ہو رہی ہے اترتے ہیں فرشتے رحمتوں کے مرے گھر میں تلاوت ہو رہی ہے گناہوں سے میں توبہ کر رہا ہوں مرے دل میں ندامت ہو رہی ہے محب کوثرؔ نظام مصطفیٰ کی زمانے کو ضرورت ہو رہی ہے

Similar Poets