Muhiuddin Fauq
Muhiuddin Fauq
Muhiuddin Fauq
Ghazalغزل
daaman qaraar-e-dil ke sab taar taar dekhe
دامن قرار دل کے سب تار تار دیکھے جب تیری وادیوں کے کچھ آبشار دیکھے جس نے تری خزاں کے ایسے نکھار دیکھے گلزار خلد کی پھر وہ کیا بہار دیکھے ہر صبح کی جھلک میں ہر شام کی شفق میں سو سو طرح کے ہم نے نقش و نگار دیکھے بادل کا گھر کے آنا کد کی پہاڑیوں پر اے کاش وہ نظارہ پھر چشم زار دیکھے اک پردہ پوش عالم کو بے نقاب دیکھا جب سبز سبز تیرے یہ کوہسار دیکھے گل ریز سرزمیں میں وہ دل فریبیاں ہیں جو ایک بار دیکھے وہ بار بار دیکھے بچ بچ کے جن سے اب تک طے کر رہے تھے راہیں وہ تیر آج ہم نے سینے کے پار دیکھے
sard aaj-kal is darja zamaane ki havaa hai
سرد آج کل اس درجہ زمانے کی ہوا ہے انجام کے احساس سے دل کانپ رہا ہے وہ شکل جو آتے ہی نظر ہو گئی غائب جادو ہے کہ بجلی کہ چھلاوا کہ بلا ہے کشمیر جسے کہتے ہیں سب غیرت فردوس جب تو ہی نہیں ہے پاس تو دوزخ سے سوا ہے کہسار پر یہ ابر کے پھرتے ہوئے سائے اک عالم شاداب تجھے ڈھونڈ رہا ہے گر بادلہ سر پر ہے تو مخمل ہے تہہ پا القصہ عجب منظر پر زیب و ضیا ہے آ اور مری چشم تصور میں سما جا آئینہ ترا دیر سے بے عکس پڑا ہے اے فوقؔ میں ہوں اس لیے محتاج رفاقت تنہا رہ منزل میں کوئی چھوڑ گیا ہے





