
Muhiuddin Gulfam
Muhiuddin Gulfam
Muhiuddin Gulfam
Ghazalغزل
زیست کا حاصل جوانی ہے مگر وہ سن گیا اصل جو سرمایۂ ہستی تھا یعنی چھن گیا عشق کی بے سمتیوں کا اس نے جب مانگا حساب انگلیوں پر عمر کی ساری بہاریں گن گیا اب تو کم از کم اجڑ جا اے دل خانہ خراب دھڑکنیں کیسے رواں ہیں جب ترا ساکن گیا مل گیا یا پا لیا جو تھا مقدر کا لکھا دسترس سے دور ممکن اور نہ نا ممکن گیا غیر سے گلفام اس کو بے تکلف دیکھ کر ایک پل میں اعتبار ظاہر و باطن گیا
ziist kaa haasil javaani hai magar vo sin gayaa
2 views
نہ ہو عذاب تو کوئی اگر ثواب نہ ہو شراب پینے سے ایمان تو خراب نہ ہو خدا کو بھولے ہوں اور دل میں اضطراب نہ ہو تو کیا ہو ایسے میں نازل اگر عتاب نہ ہو کہیں حقیقت احوال مثل خواب نہ ہو وہ رو بہ رو ہو مگر دیکھنے کی تاب نہ ہو عقیدتیں بھی دلوں سے نکل ہی جاتی ہیں یہ اور بات کہ سجدوں سے اجتناب نہ ہو نہ جانے اور ابھی کیا وہ گل کھلائے گا ابھی سے اس کے سوالوں کے لا جواب نہ ہو خدا کرے کہ مرے بعد تا ابد مجھ سا اسیر ذائقہ و لذت شراب نہ ہو یہ دلبری کے تقاضوں کے بھی منافی ہے کہ یار سامنے ہو اور بے حجاب نہ ہو سلوک عشق میں بے فیض ہیں وہ لب جن سے حصول لذت شیرینیٔ لعاب نہ ہو گراں ہے طبع پہ کیوں جام و بادہ اے گلفامؔ شباب کیسا اگر گرمئی شباب نہ ہو
na ho azaab to koi agar savaab na ho
1 views
اسی صنم کے لئے خوار ہم یہاں کم ہیں مرے رقیب ہمیں کیا عذاب جاں کم ہیں مرے چمن کو کسی کی نظر نے کھایا ہے خزاں کا دور نہیں پھر بھی تتلیاں کم ہیں تو کیا ہوا کہ اگر لکڑیاں نہیں ملتیں ہمارے پاس جلانے کو لڑکیاں کم ہیں یہ کس کے سوگ میں مہتاب منہ چھپائے ہے یہ کس کے غم میں ستارے بھی ضو فشاں کم ہیں نگاہ آس سے دیکھے ہے سب طرف سر حشر کسی کے پلڑے میں گلفامؔ نیکیاں کم ہیں
usi sanam ke liye khvaar ham yahaan kam hain
1 views
چاند چھونے کی دھن میں ہوئے جاتے ہیں دور مٹی سے ہم ہم سے مٹی بہت چاند کا ہاتھ آنا نہ آنا ہی کیا سانحہ تو ہے مٹی سے دوری بہت جب کہ سب اک روش ہی پہ ہوں گامزن رہ جدا کرنا آسان ہے جان من سچ کا ایسے میں جامہ کرو زیب تن جھوٹ کے جب ہوں چو طرفہ حامی بہت خوف کا دل میں طوفان رکھا گیا پا بہ زنجیر مہمان رکھا گیا ہم کو محروم عرفان رکھا گیا بے سبب تو نہیں مہربانی بہت وار سارے ہی اس کے دھرے رہ گئے پے بہ پے گو بدلتا رہا پینترے میں نے چاہا نمود ہنر وہ کرے تھی وگرنہ مری اک ہی بازی بہت لاکھ مانا کہ نا تجربہ کار ہے تجربے سے مگر کیا سروکار ہے عشق کو حسن کے ناز و انداز کی ہوتی ہی ہے سمجھ بوجھ تھوڑی بہت بے سبب پوچھتا بھی نہیں آدمی بے غرض تھوکتا بھی نہیں آدمی آج خود میرے در تک چلے آئے ہو واقعی کام تھا کیا ضروری بہت جان بے شک مری لے لے نذرانہ وہ بخش دے بس معافی کا پروانہ وہ مان کر مجھ کو گلفامؔ دیوانہ وہ کر نہیں لیتا کیوں ظرف عالی بہت
chaand chhune ki dhun mein hue jaate hain duur miTTi se ham ham se miTTi bahut
1 views





