Mujeeb Khairabadi
Mujeeb Khairabadi
Mujeeb Khairabadi
Ghazalغزل
ہم اہل عزم اگر دل سے جستجو کرتے تو اور منزل جاناں کو سرخ رو کرتے نہ دسترس میں بہاریں نہ دل ہی قابو میں غریب شہر کہاں تک جگر لہو کرتے کسے خبر ہے کہ دل کے کنول کھلیں نہ کھلیں کٹی ہے عمر بہاروں کی آرزو کرتے نہ آ سکے تھے یہ حالات کا تقاضا تھا جو آ گئے تھے تو پھر کھل کے گفتگو کرتے یہ فیصلہ تو کیا دل نے بار بار مگر اک آرزو ہی رہی ترک آرزو کرتے سکون سینۂ طوفاں مجیبؔ کیا شے ہے یہ جانئے تو نہ ساحل کی آرزو کرتے
ham ahl-e-azm agar dil se justuju karte
مرے ساتھیو مرے ہمدمو یہ بجا کہ تیز خرام ہوں مرے ساتھ ساتھ چلے چلو میں نئی سحر کا پیام ہوں مرے نقش پا نہ مٹے اگر تو چمک اٹھیں گے یہ راستے مرے قافلے کو خبر کرو میں حریف ظلمت شام ہوں وہی روز و شب وہی ظلمتیں وہی مرحلے وہی گردشیں جو کبھی تمام نہ ہو سکے وہ حدیث نیم تمام ہوں کہیں صبح ہے کہیں شام ہے مجھے خود بھی اپنا پتا نہیں مرا کیا سراغ ملے تمہیں ابھی بے دیار و قیام ہوں دل درد مند کو آج بھی ہے مجیبؔ حسرت راز داں میں وہ ایک نغمۂ آرزو کہ خود اپنے لب پہ حرام ہوں
mire saathiyo mire hamdamo ye bajaa ki tez-khiraam huun
یہ عروج ہستی ہے یا زوال ہستی ہے ان کی آرزو مہنگی اپنی موت سستی ہے کھل چکے ہیں رندوں پر راز ہائے مے خانہ خود نگاہ ساقی سے تشنگی برستی ہے دور تک نہیں کوئی ساتھ دشت غربت میں راستوں کی ویرانی اور دل کو ڈستی ہے کچھ تو اے غم جاناں تجھ کو بھولنا ہوگا صرف تیرا ہو رہنا اک بلند پستی ہے اک تجھی کو چاہا تھا کیا خدائی چاہی تھی پھر بھی کم نظر دنیا جرم دل پہ ہنستی ہے کل انہیں کی پیشانی صبح نو جگائے گی جن کی تیرہ بختی پر آج رات ہنستی ہے دل مجیبؔ ایسے میں ڈوب ڈوب جاتا ہے جب نگاہ دشمن سے دوستی برستی ہے
ye uruj-e-hasti hai yaa zavaal-e-hasti hai
سورج کی سنہری کرنوں سے تابندہ رخ عالم نہ سہی آثار سحر تو پیدا ہیں کم ظلمت شام غم نہ سہی آداب چمن سے ناواقف زنجیر بپا دیوانوں کو تعمیر چمن کی فکر تو ہے تخریب چمن کا غم نہ سہی ہاں یاد ہمیں بھی کر لینا آسائش منزل سے پہلے اے قافلے والو غم نہ کرو اے منزل جاناں ہم نہ سہی انجام سفر کیا ہونا ہے یہ فیصلہ مستقبل دے گا میدانوں پہ وحشت آج بھی ہے راہوں کے وہ پیچ و خم نہ سہی مایوس مجیبؔ اتنا بھی نہ ہو لغزش تو گناہ آدم ہے منزل کی طلب تو محکم ہے ادراک سفر محکم نہ سہی
suraj ki sunahri kirnon se taabinda rukh-e-aalam na sahi
میرا جنوں شرمسار دیکھیے کب تک رہے فصل خزاں پر بہار دیکھیے کب تک رہے دیکھیے کب تک بہے دیدہ و دل سے لہو صحن چمن لالہ زار دیکھیے کب تک رہے دیکھیے کب تک رہے کج کلہ شہریار یہ روش تاجدار دیکھیے کب تک رہے آج بھی ہے کوہ کن بندہ بے دام زر عشق غریب الدیار دیکھیے کب تک رہے اور فروزاں ہوا شعلۂ قندیل شب گل کا مگر اعتبار دیکھیے کب تک رہے دست صبا کٹ نہ جائے لوح و قلم چھن نہ جائیں عظمت فن با وقار دیکھیے کب تک رہے خامشی و مصلحت بے دلی و بے حسی اہل سخن کا شعار دیکھیے کب تک رہے
meraa junun sharmsaar dekhiye kab tak rahe
کتنے خواب ٹوٹے ہیں کتنے چاند گہنائے جو رقیب ظلمت ہو اب وہ آفتاب آئے دشمنوں کو اپنایا دوستوں کے غم کھائے پھر بھی اجنبی ٹھہرے پھر بھی غیر کہلائے نا خدا کی نیت کا کھل گیا بھرم تو کیا بات جب ہے کشتی بھی ڈوبنے سے بچ جائے حادثے بھی برسیں گے زلزلے بھی آئیں گے یہ سفر قیامت ہے تم کہاں چلے آئے پھول پھول برہم ہے خار خار دشمن ہے ہم مجیبؔ گلشن سے لو لگا کے پچھتائے
kitne khvaab TuuTe hain kitne chaand gahnaae





