
Mukesh Sharma Manmauji
Mukesh Sharma Manmauji
Mukesh Sharma Manmauji
Ghazalغزل
yaadon ke kuchh charaagh bujhaae nahin gae
یادوں کے کچھ چراغ بجھائے نہیں گئے ہائے دل و دماغ سے سائے نہیں گئے جو شعر تیرے حسن کی پیمائشوں پہ تھے ہم سے تو محفلوں میں سنائے نہیں گئے اب کیا بتائیں حال ہمارا تمہارے بعد مر تو چکے ہیں کب کے جلائے نہیں گئے لے تو رہے ہیں سات وچن لوگ بیاہ میں ساتوں وچن کسی سے نبھائے نہیں گئے
sukhanvar gham kushaada kar rahe hain
سخنور غم کشادہ کر رہے ہیں پرانے زخم تازہ کر رہے ہیں کوئی سمجھائے اہل عقل ان کو غموں کو کیوں لبادہ کر رہے ہیں محبت ہو گئی آسان شاید نئے لڑکے زیادہ کر رہے ہیں انہیں کس منہ سے میں کہہ دوں ستمگر وہ یہ سب حسب وعدہ کر رہے ہیں
nigaar-e-dasht mein jo tifl paa-piyaada hai
نگار دشت میں جو طفل پا پیادہ ہے مصورو وہ کسی گھر کا شاہزادہ ہے محبتوں میں خسارہ ہی استفادہ ہے اب اپنے آپ سے پوچھو کہ کیا ارادہ ہے ورق پہ بکھرا ہے جو درد شعر کی صورت یہ ریزہ ریزہ ہوئے خواب کا برادہ ہے بچھڑ کے تم بھی ابھی سوگوار ہو شاید مرے بھی لب پہ تبسم فقط لبادہ ہے میں مطمئن تھا تہ دل سے دفن کر کے جسے وہ کنکھیوں کے دریچوں پہ بے لبادہ ہے
na to kaamil na hi taa'mir mein hain
نہ تو کامل نہ ہی تعمیر میں ہیں مرے کچھ خواب ابھی زنجیر میں ہیں ابھی کچھ مشق باقی ہے مصور ابھی کچھ خامیاں تصویر میں ہیں تری زلفوں میں جتنے خم ہیں ان سے زیادہ تو مری تقدیر میں ہیں وصیت میں بتاؤ کیا لکھوں میں فقط کچھ تجربے جاگیر میں ہیں قوافی زیست کے نبھنے نہ دیں گے جو نقطے بخت کی تحریر میں ہیں
naujavaani laa-makaani jaan-fishaani aur tum
نوجوانی لا مکانی جاں فشانی اور تم دیر سے آئے میرے لفظوں میں معنی اور تم زیست کا پر خار صحرا پار کرنے کے لیے دو ہی چیزیں لازمی ہیں شعر خوانی اور تم اس جہاں سے اس جہاں تک دو ہی چیزیں ہیں پوتر سورگ سے اتری ہوئی گنگا کا پانی اور تم لاکھ سمجھاؤں مگر خود کو یقیں ہوتا نہیں بس اسی حیرت میں ہوں میری دوانی اور تم
mausamon kaa hai taqaazaa chuum lo
موسموں کا ہے تقاضا چوم لو کیا کہیں اس سے زیادا چوم لو یوں تو پہلے وصل میں جائز نہیں گر مقدس ہے ارادہ چوم لو تم بڑے ضدی ہو مانو گے نہیں ٹھیک ہے اچھا لو بابا چوم لو رفتہ رفتہ پار ہوں گی سیڑھیاں عارضوں سے پہلے ماتھا چوم لو





