Mukhlis Wajdani
Mukhlis Wajdani
Mukhlis Wajdani
Ghazalغزل
دکھا نہ دست شناسوں کو ہاتھ، فال نہ پوچھ وہ بات جس سے ہو سن کر تجھے ملال نہ پوچھ برہنہ تیغ تنی ہے سروں پہ انساں کے ہلال عید نہیں ہے یہ میرے لال! نہ پوچھ ہم اپنے کتنے عزیزوں کے نام گنوائیں کہ اپنے ایسے ہزاروں ہیں خستہ حال نہ پوچھ فراز دار پہ ہم لوگ کب نہ تھے مخلصؔ زمانہ اب کے چلا ہے وہ ہم سے چال نہ پوچھ
dikhaa na dast-shanaason ko haath, faal na puchh
انکار کسے، اوج قمر تک نہیں پہنچا انسان مگر دل کے نگر تک نہیں پہنچا اٹھا تو ہر اک جھکتی ہوئی شاخ کی جانب ہاتھ اپنا کسی شاخ ثمر تک نہیں پہنچا طوفان کی زد پر ہے اگر شہر اسے کیا وہ خوش ہے کہ پانی ابھی گھر تک نہیں پہنچا ہر راہ لئے جاتی ہے اک بند گلی تک رستہ کوئی اس شوخ کے در تک نہیں پہنچا دم بھرتا رہا اپنی وفاؤں کا جو مخلصؔ وہ شخص تو لینے کو خبر تک نہیں پہنچا
inkaar kise, auj-e-qamar tak nahin pahunchaa





