Mukhtar Ahmad Kausar
بلند برق کے آگے بھی حوصلہ رکھنا جلے جو ایک نشیمن تو دوسرا رکھنا جو آزمانا ہو مجھ کو تو پھر مرے آگے خم و صراحی نہیں سارا مے کدہ رکھنا وہ سچ کی کھوج میں کس کس کا دیکھتا چہرہ جو خود ہی بھول گیا ساتھ آئنہ رکھنا کہیں اگا ہو وہ گلشن ہو یا کہ صحرا ہو ہمیشہ پھول کی خوشبو سے واسطہ رکھنا دلوں کے بیچ میں دیوار تاننے والو کھلی ہوا میں نکلنے کا راستہ رکھنا وہ اجنبی کہ شناسا ہو یہ خیال رہے ملو جو اس سے تو تھوڑا سا فاصلہ رکھنا صعوبتوں سے جو دل ٹوٹنے لگے کوثرؔ نظر کے سامنے تصویر کربلا رکھنا
buland barq ke aage bhi hausla rakhnaa