SHAWORDS
Mukhtar Ashiqi Jaunpuri

Mukhtar Ashiqi Jaunpuri

Mukhtar Ashiqi Jaunpuri

Mukhtar Ashiqi Jaunpuri

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

غنچہ چٹکا نہ کوئی پھول کھلا میرے بعد میں چلا تو نہ چلی باد صبا میرے بعد ظلم کے ہاتھوں مرے شہر سے آنے والو اور کس کس کا وہاں خون ہوا میرے بعد حوصلہ چاہئے گلشن کی نگہبانی کا جاں نشیں کون مرا ہوگا بھلا میرے بعد یہ مرا خون جگر ہے یہ مرا خون جگر حسن ہو جائے نہ محتاج حنا میرے بعد دشمنی تھی تو فقط میرے نشیمن سے تھی پھر نہ آیا کبھی طوفان بلا میرے بعد کوئی کہتا ہے یہ چپکے سے جگا کر مجھ کو کس نے دنیا میں کیا سجدہ ادا میرے بعد کیسے کیسے ذرا میں بھی تو سنوں ہاں کہئے آپ کو کون وفادار ملا میرے بعد راہ دشوار تو منزل ہے بہت دور ابھی کاش مل جائے کوئی راہنما میرے بعد مسکراتی جو کلی خار مہکتے مختارؔ باغباں ایسا چمن میں نہ ہوا میرے بعد

ghuncha chaTkaa na koi phuul khilaa mere baad

غزل · Ghazal

ہوگا ایسا بھی کوئی مرد خدا میرے بعد دے گا دنیا کو جو پیغام وفا میرے بعد زندگی بھر نہ ملے گا لب و لہجہ میرا ہونے کو ہوں گے بہت نغمہ سرا میرے بعد میں تو جانے کو چلا جاؤں تری محفل سے کس کو تنہائی میں دے گا تو صدا میرے بعد میری تصویر مرے خط مجھے واپس دے دو یہی رلوائیں گے تم کو بخدا میرے بعد دل الٹ جائے گا ساون میں قیامت ہوگی پھر سنیں گے نہ پپیہے کی صدا میرے بعد بجلیاں چاک گریباں نظر آئیں گی تمہیں خون برسائے گی ساون کی گھٹا میرے بعد آئنہ سامنے رکھ کر جسے تم دیکھتے ہو نظر آئے گا وہ مرجھایا ہوا میرے بعد ختم ہو جائے گا مختارؔ قیامت کا شور پھر نہ ہوگا کبھی ہنگامہ بپا میرے بعد

hogaa aisaa bhi koi mard-e-khudaa mere baad

غزل · Ghazal

گلوں میں رنگ کہاں ہے ترے بدن کی طرح ترا بدن ہے ستاروں کی انجمن کی طرح وہی جو لوگ تھے آوارہ بے وطن کی طرح انہیں کے دم سے بیاباں ہوا چمن کی طرح یہ ہے فریب نظر یا بہار کا موسم سجا ہوا ہے گلستاں مرا دلہن کی طرح جنون شوق مرا کامیاب ہو ہی گیا لگے ہے مجھ کو بیاباں بھی اب چمن کی طرح وہ زندگی تو نہیں زندگی کا ماتم ہے جو زندگی ہو وطن ہی میں بے وطن کی طرح شب فراق ہے غم ہے خلش ہے آنسو ہے مری حیات ہے تنہا بھی انجمن کی طرح جہاں بھی میں نے قدم اپنا رکھ دیا مختارؔ مہک اٹھے وہیں کانٹے بھی نسترن کی طرح

gulon mein rang kahaan hai tire badan ki tarah

غزل · Ghazal

تیری انجمن میں آئے ترے پیار تک نہ پہنچے اسے کیا کہوں چمن میں جو بہار تک نہ پہنچے جسے آ گیا ہے جینا اسے مل گیا گلستاں وہ بہار گل کو ترسے کہ جو خار تک نہ پہنچے اے مغنیٔ زمانہ ترے نغمے خوب لیکن کبھی عظمت صدائے لب یار تک نہ پہنچے وہ نہ پا سکے جہاں میں کبھی زندگی کا حاصل جو دیار رنگ و بو میں غم یار تک نہ پہنچے کوئی چل بسا جہاں سے یہی کہتے کہتے آخر تمہیں پاس حسن اتنا کہ پکار تک نہ پہنچے مجھے ہر الم گوارا رہ عشق میں ہے لیکن کبھی غم کی دھوپ یا رب میرے یار تک نہ پہنچے یہ عجیب منصفی ہے یہ عجیب ہے زمانہ جو خطا کرے جہاں میں وہی دار تک نہ پہنچے مرے پیار کی حدوں میں ہے تمام شے چمن کی وہ لہو بھی کیا لہو ہے جو کہ خار تک نہ پہنچے

teri anjuman mein aae tire pyaar tak na pahunche

غزل · Ghazal

عشق کی راہ میں مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی داستان دل بسمل کبھی ایسی تو نہ تھی گفتگوئے لب قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی آج شاید کسی کشتی کا یہاں دم ٹوٹا سوگواری لب ساحل کبھی ایسی تو نہ تھی شاخ گل ہے نہ نشیمن غم صیاد الگ مضمحل جان عنادل کبھی ایسی تو نہ تھی کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے اندھیرے کے سوا اف یہ گرد رہ منزل کبھی ایسی تو نہ تھی آسماں پر ہیں نگاہیں نہ سمندر کی طرف قوم حالات سے غافل کبھی ایسی تو نہ تھی آج ہر لفظ ترا کیوں ہے ریاکار جہاں گفتگو نازش محفل کبھی ایسی تو نہ تھی رخ محبوب کی زلفوں کا گھنیرا بادل یہ گھٹا پیار کے قابل کبھی ایسی تو نہ تھی مشکلیں یوں تو اے مختارؔ بہت آئی ہیں ہاں مگر راہ میں مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

ishq ki raah mein mushkil kabhi aisi to na thi

غزل · Ghazal

دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں میں نے وفور شوق میں سجدہ کیا کہاں نہیں مانا کہ مشت خاک ہوں پھر بھی مجھے یہ فخر ہے میری نگاہ سے پرے وسعت دو جہاں نہیں خون دل غریب سے سینچ سکے نہ جو چمن ننگ چمن ہے وہ بشر حاصل گلستاں نہیں بار شب فراق سے شیشۂ دل ہے چور چور پھر بھی ہیں مسکراہٹیں لب پہ مرے فغاں نہیں تیرے غم فراق میں میرے لبوں پہ آج کل نغمۂ زندگی نہیں بادۂ ارغواں نہیں فصل بہار کے لئے میں نے بھی خون دل دیا دور بہار میں مگر میرا کہیں نشاں نہیں

der nahin haram nahin dar nahin aastaan nahin

Similar Poets