Mukhtar Javed
Mukhtar Javed
Mukhtar Javed
Ghazalغزل
تیر و کمان، خنجر و تلوار بن گئے دشمن ملا تو ہاتھ بھی ہتھیار بن گئے لفظوں کے کیسے کیسے معانی بدل گئے کردار کش بھی صاحب کردار بن گئے جب سے کوئی اصول تجارت نہیں رہا بازاریوں کے نام پہ بازار بن گئے قدغن کے باوجود کہاں آ گیا ہوں میں دروازے میرے سامنے دیوار بن گئے اس کی زباں پہ حرف تھے عنوان کی طرح افسانے سیکڑوں پس اظہار بن گئے اس قافلے میں گرد برابر تھی جن کی ذات واپس ہوئے تو قافلہ سالار بن گئے خط کھینچتے ہوئے کوئی بچہ بڑا ہوا کل کے خطوط آج کے شاہکار بن گئے
tiir o kamaan, khanjar o talvaar ban gae
کچھ تو موقوف نگاہوں کی چمک پر ہوگا ورنہ منظر تو سبھی کے لئے منظر ہوگا کوئی مہمیز سی ٹھوکر ہے ضرورت میری رہ کا پتھر تو بڑے کام کا پتھر ہوگا ناتواں ایسے کہ جو شخص ہمیں قتل کرے خون آلود نہ اس شخص کا خنجر ہوگا کچھ تو کرنا ہے مجھے اپنی حفاظت کے لئے ایک دن میری ہتھیلی پہ مرا سر ہوگا
kuchh to mauquf nigaahon ki chamak par hogaa
ہدف ہوں دشمن جاں کی نظر میں رہتا ہوں کسے خبر ہے قفس میں کہ گھر میں رہتا ہوں ادھر ادھر کے کنارے مجھے بلاتے ہیں مگر میں اپنی خوشی سے بھنور میں رہتا ہوں نہ میں زمیں ہوں نہ تو آفتاب ہے پھر بھی ترے طواف کی خاطر سفر میں رہتا ہوں میں سایہ دار نہیں اس کے باوجود یہ دیکھ پہن کے دھوپ تری رہ گزر میں رہتا ہوں یہ کیسی چڑھ ہے مجھے تیرگی کے عالم سے کہ میں چراغ ہوں لیکن سحر میں رہتا ہوں مجھے غرض ہے فقط اس کی استقامت سے بہار ہو کہ خزاں میں شجر میں رہتا ہوں مجھے شناخت کرو میرے شاہکاروں میں میں خال و خط سے زیادہ ہنر میں رہتا ہوں
hadaf huun dushman-e-jaan ki nazar mein rahtaa huun
خدا کی ذات نے جب درد کا نزول کیا مرے سوا نہ کسی اور نے قبول کیا اگرچہ ایک قبیلے کے فرد ہیں دونوں تجھے گلاب بنایا مجھے ببول کیا کبھی یہ غم کہ ادھورا رہا ہمارا کام کبھی یہ سوچ کہ جتنا کیا فضول کیا ہوا نے گرد اڑائی ہے بارہا میری پلٹ پلٹ کے زمیں نے مجھے قبول کیا ہر ایک زخم کو بخشی گلاب کی صورت بدن کی سیج پہ کانٹوں کو ہم نے پھول کیا سنا رہے ہیں شجر رخصت بہار کا سوگ ثمر تو کیا کوئی پتہ نہیں قبول کیا کسی کو خد سے زیادہ نہ محتسب جانا فقط ضمیر کی آواز کو اصول کیا
khudaa ki zaat ne jab dard kaa nuzul kiyaa





