
Mukhtar Kukravi
Mukhtar Kukravi
Mukhtar Kukravi
Ghazalغزل
rahegaa yaad tu jab tak hayaat baaqi hai
رہے گا یاد تو جب تک حیات باقی ہے کہ تیری یادوں کی اک کائنات باقی ہے گزر رہا ہے یہ بے رنگ زندگی کا سفر نہ دن ہی باقی رہا ہے نہ رات باقی ہے تمہاری یاد کے روشن چراغ ہر سو ہیں شب فراق سے ملنی نجات باقی ہے ابھی نہ بزم سخن سے اٹھائیے مجھ کو کسی نظر کا ابھی التفات باقی ہے نہ کام آئی ہمارے جو کربلا میں کبھی بلا سے اپنی جو موج فرات باقی ہے تمام عمر چلے عشق کی ڈگر مختارؔ مگر سفر میں ابھی پل صراط باقی ہے
udaasiyon kaa hamaari sabab tumhin to the
اداسیوں کا ہماری سبب تمہیں تو تھے ہماری فکر میں بس روز و شب تمہیں تو تھے ہمیں غرض ہی نہ تھی اور کچھ بھی دنیا میں ہماری زیست کی پہلی طلب تمہیں تو تھے جو گزرے باغ سے تتلی لبوں پہ آ بیٹھی ہزاروں پھول تھے پر غنچہ لب تمہیں تو تھے کسی کے آنے سے ہم کو کوئی خوشی نہ ملی ہمارے واسطے بزم طرب تمہیں تو تھے کروں بیان بھی کیا میں دل شکستہ کا جگر میں تم تھے مرے زیر لب تمہیں تو تھے ہمیں امید مداوا کسی سے کیوں ہوتی ہمارے درد جگر کا مطب تمہیں تو تھے کسی نے تم سے عداوت رکھی تو کیا مختارؔ اگرچہ دہر میں اک بے ادب تمہیں تو تھے
phir chaman mein bahaar de maulaa
پھر چمن میں بہار دے مولیٰ باغ ہستی سنوار دے مولیٰ جو بہت بے قرار رہتے ہیں ان دلوں کو قرار دے مولیٰ رات خوابوں میں اس سے ملنا ہے جلد یہ دن گزار دے مولیٰ بھول شاید اسے نہیں سکتا پر مجھے اختیار دے مولیٰ بھیڑ میں دل مرا نہیں لگتا دامن کہسار دے مولیٰ تو ہی دیتا ہے جس کو جو مانگے مجھ کو بس میرا یار دے مولیٰ
kaise kah dein halaal kuchh bhi nahin
کیسے کہہ دیں حلال کچھ بھی نہیں اس کا حسن و جمال کچھ بھی نہیں کیوں وہ ہی ہے مرے تصور میں جس کو میرا خیال کچھ بھی نہیں تنہا رہنے کی جس کو عادت ہے اس کو ہجر و وصال کچھ بھی نہیں کوئی جاتا ہے تو چلا جائے اس کا مجھ کو ملال کچھ بھی نہیں بات بس مجھ سے وہ نہیں کرتا اس کا مجھ سے وبال کچھ بھی نہیں اس کی شوخی بیان ہو کیسے اس کے آگے غزال کچھ بھی نہیں بخش دی اس نے صرف تنہائی گل انگوٹھی رومال کچھ بھی نہیں یہ سخن رب کی ہی عنایت ہے اس میں میرا کمال کچھ بھی نہیں چار سو دیکھو ہے بپا محشر دوست اہل و عیال کچھ بھی نہیں ہے جو مختارؔ اس بدن میں مہک رنگ خوشبو گلال کچھ بھی نہیں





