SHAWORDS
M

Mukhtar Nadeem

Mukhtar Nadeem

Mukhtar Nadeem

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ہر اک نگاہ کا محور بنا دیا مجھ کو خدا نے آئنہ پیکر بنا دیا مجھ کو جمود فکر نے قطرہ بنا رکھا تھا مجھے عمل نے گہرا سمندر بنا دیا مجھ کو بدلتے وقت نے تیور بدل دئے میرے خموش جھیل کا منظر بنا دیا مجھ کو ستم ظریفیٔ حالات نے کمال کیا میں ایک پھول تھا پتھر بنا دیا مجھ کو انانیت نے عجب شعبدہ دکھایا ہے خود اپنے حق میں ہی خنجر بنا دیا مجھ کو ڈبو رہی تھی مجھے بے بسی کی ناؤ ندیمؔ کہ حوصلے نے شناور بنا دیا مجھ کو

har ik nigaah kaa mehvar banaa diyaa mujh ko

غزل · Ghazal

یزید نفس سے انکار بیعت روز کرتے ہیں ہم اس شیطان سے اپنی حفاظت روز کرتے ہیں سماعت کے مصلے پر عبادت کرتی ہے آواز پرندے میٹھے لہجے میں تلاوت روز کرتے ہیں خیال آتا نہیں کہ روح کی صحبت بھی لازم ہے ہم اپنے پیٹ کی خاطر تو محنت روز کرتے ہیں مجھے تعریف کا نشہ پلا کر میرے کچھ احباب محبت کے پس پردہ عداوت روز کرتے ہیں ندیمؔ ان کی محبت کی اداکاری پہ مت جانا منافق ایسی بازاری سیاست روز کرتے ہیں

yazid-e-nafs se inkaar-e-bai'at roz karte hain

غزل · Ghazal

ہر قدم اپنا ارادہ نہیں بدلا جاتا مشکلیں دیکھ کے رستہ نہیں بدلا جاتا ٹوٹ جاتا ہے قلم وقت کے منصف کا یہاں لوح تقدیر کا لکھا نہیں بدلا جاتا ہم ہر اک تلخ حقیقت سے ملاتے ہیں نظر آئنہ دیکھ کے چہرہ نہیں بدلا جاتا تنگ دامانی کو درکار ہے وسعت دل کی کج نظر کے لیے چشمہ نہیں بدلا جاتا لکھ رکھیں ذہن میں یہ بات بھی اہل تخریب سچ کی تعمیر کا نقشہ نہیں بدلا جاتا خو بدل جانے سے فطرت کہیں بدلی ہے ندیمؔ سرجری کر کے سراپا نہیں بدلا جاتا

har qadam apnaa iraada nahin badlaa jaataa

Similar Poets