SHAWORDS
M

Mukhtar Nusrat

Mukhtar Nusrat

Mukhtar Nusrat

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

رفیق زندگی حالات کا ہمسر نہیں بنتا نہ رکھو اینٹ جب تک اینٹ پر تو گھر نہیں بنتا ہمارا کام ہے انسان کو انساں بنانے کا ہمارے کارخانوں میں کبھی خنجر نہیں بنتا جدا ملت سے ہونے پر نہ ہوگی اہمیت حاصل سمندر کے کنارے پر کبھی گوہر نہیں بنتا کسی کی آسرا افضائی پر تکیہ نہ کر نصرتؔ کہ پانی برف بنتا ہے مگر پتھر نہیں بنتا

rafiq-e-zindagi haalaat kaa ham-sar nahin bantaa

غزل · Ghazal

عقل کو دوست بنا اور خموشی کو مشیر کیوں کہ ظاہر ہی ہوا کرتا ہے باطن کا سفیر لکڑیاں جلتی ہیں کاغذ کا سہارا لے کر یعنی لکڑی کو فنا کرتا ہے لکڑی کا خمیر ہو بشر صاحب ایماں تو فرشتوں سے عظیم گر ہو ایمان سے عاری تو ہے حیواں سے حقیر دے جنم صفحۂ قرطاس پہ لفظوں کو قلم حسن ترتیب عطا کرتی ہے جملوں کو لکیر سلسلہ وار چلے آتے ہیں اس در پہ طبیب جس کی چوکھٹ سے چلے جاتے ہیں مایوس فقیر محور غم سے تجھے کون نکالے نصرتؔ آج ہر آدمی زندان انا میں ہے اسیر

'aql ko dost banaa aur khamoshi ko mushir

غزل · Ghazal

فکر و الم کا بوجھ تقاضوں کا ڈر نہ تھا مقروض روغنوں سے مرا لقمہ تر نہ تھا مسجد گری تو پھٹ گیا سینہ زمین کا آخر خدا کا گھر تھا وہ انساں کا گھر نہ تھا انصاف کی ہے مانگ کہ شوہر بھی ہو ستی پتنی کی زندگی کا کیا وہ ہم سفر نہ تھا اپنی غذا کو ساتھ لیے چاند پر گیا عقدہ کھلا کہ رزق ترا چاند پر نہ تھا جھوٹی زباں سے سچ بھی کہا تو لگا وہ جھوٹ نا معتبر رہا کہ کبھی معتبر نہ تھا

fikr-o-alam kaa bojh taqaazon kaa Dar na thaa

Similar Poets