SHAWORDS
Mukhtar Shameem

Mukhtar Shameem

Mukhtar Shameem

Mukhtar Shameem

poet
19Ghazal

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

سائبان و در بھی تھے ساتھ اجڑے گھر بھی تھے سلسلے رفاقت کے خود کو چھوڑ کر بھی تھے سخت دھوپ تھی لیکن راہ میں شجر بھی تھے اس طرف سمندر ہے اس طرف تو گھر بھی تھے حرف ناروا ہیں ہم حرف معتبر بھی تھے

saaebaan-o-dar bhi the

غزل · Ghazal

وہ آنکھیں جن میں کوئی پھول مسکرائے گا کبھی کرن تو کبھی تارہ جگمگائے گا گئی بہار کی چاہت میں اے ہوائے چمن یہ ایک زرد سا پتہ بھی ٹوٹ جائے گا تری وفا پہ مجھے شک نہیں مگر سچ کہہ مری طرح سے کسی اور کو بھی چاہے گا اسے بھلاؤں تو کیسے کہ نقش اول ہے ہزار چاہنے والا نظر میں آئے گا وہ ایک لمس کا لمحہ ہوائے شوق بتا وہ ایک خوشبو کا جھونکا پلٹ کے آئے گا

vo aankhein jin mein koi phuul muskuraaegaa

غزل · Ghazal

وقت کے چہرے پہ چڑھتی دھوپ کا غازہ لگا کچھ مرے رنگ سخن کا اس سے اندازہ لگا ایک لفظ کن امین عالم امکاں ہزار ایک اک لمحے سے تو صدیوں کا اندازہ لگا ٹوٹ جاتا ہوں شکستہ آئنہ کو دیکھ کر جب کبھی خود سے ملا ہوں زخم اک تازہ لگا اک نہ اک آسیب چپکے سے ابھی در آئے گا بند کر گھر کے دریچے لاکھ دروازہ لگا سوچتا کیا ہے مقدر آزمانا شرط ہے کھل ہی جائے گا دریچہ کوئی آوازہ لگا چلچلاتی دھوپ کی نظروں نے تاکا ہے وہیں سبز ٹہنی پر اگر اک پھول بھی تازہ لگا عجز اعجاز سخن ہے معنیٔ ایجاد فن قیمت عرض ہنر کا کچھ تو اندازہ لگا

vaqt ke chehre pe chaDhti dhuup kaa ghaaza lagaa

غزل · Ghazal

صورت غم کہ امنڈتے ہوئے بادل کا مزاج راس آئے تو بھلا کیوں کسی آنچل کا مزاج زندگی دھوپ میں تپتے ہوئے صحرا کی طرح ہر خوشی روٹھ کے جاتے ہوئے بادل کا مزاج کاغذی کشتیاں بہتے ہوئے پانی میں نہ چھوڑ کس کو معلوم کہ دریا میں ہے دلدل کا مزاج شاخ شمشیر پہ لو زخم بہاراں مہکے رت بدلتے ہی بدل جاتا ہے جنگل کا مزاج اب کے بستی میں بڑی دھوم رہے گی یارو چاند روشن ہے ہوا میں بھی ہے پاگل کا مزاج اس کے لہجے کی حلاوت میں گھلے جاتے ہیں اس نے پایا ہے مگر دوستو حنظل کا مزاج کس نے دیکھے ہیں بدلتے ہوئے دن رات شمیمؔ کس کو معلوم کہ راس آئے کسے کل کا مزاج

surat-e-gham ki umanDte hue baadal kaa mizaaj

غزل · Ghazal

ہے تقاضائے جنوں سلسلۂ دار ملے غم کی زنجیر ملے درد کی جھنکار ملے تیشۂ نور لیے صبح کا پیغام لیے کوئی بیدار ملے کوئی تو ہشیار ملے دشت وحشت کی قسم آبلہ پائی کی قسم راہ میں جب نہ کوئی سایۂ دیوار ملے ہم سفر ہم نے جہاں نقش تمنا پایا ہم رہ زیست کے اس موڑ پہ بے کار ملے ان کے چہروں پہ تھے اخلاص و محبت کے نقوش دل میں جھانکا تو مرے یار ہی اغیار ملے

hai taqaazaa-e-junun silsila-e-daar mile

غزل · Ghazal

دشت ہے جن کا مقدر دیکھیے ان کی آنکھوں میں سمندر دیکھیے گہری خاموشی کا منظر دیکھیے اپنے اندر بھی اتر کر دیکھیے ایک اک ساعت کا دینا ہے حساب ایک اک لمحے کا محشر دیکھیے لوگ شیشے کے مکاں میں بند ہیں اور ہاتھوں میں ہیں پتھر دیکھیے آگ میں لپٹا ہوا ساون ملے سبز جنگل سے گزر کر دیکھیے

dasht hai jin kaa muqaddar dekhiye

Similar Poets