SHAWORDS
M

Mukhtar Tonki

Mukhtar Tonki

Mukhtar Tonki

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

jaan-o-dil tujh pe luTaane ko ye tayyaar bhi hai

جان و دل تجھ پہ لٹانے کو یہ تیار بھی ہے عشق خوددار سہی عشق وفادار بھی ہے یہ تو تسلیم کہ دنیا ہے جہنم لیکن اس کو فردوس بھی کہئے کہ یہاں پیار بھی ہے یوسف وقت کا چلتا نہیں کیوں آج پتہ ہے زلیخا بھی یہاں مصر کا بازار بھی ہے وقت بہتا ہوا دریا ہے بہت تیز خرام میرے ہاتھوں میں مگر وقت کی رفتار بھی ہے چوم لیں شوق سے ہم چہرۂ لیلائے حیات روئے گلنار بھی ہے چشم فسوں کار بھی ہے سامنے آنکھ کے اک بھیڑ ہے انسانوں کی سارے مجمع میں کوئی صاحب کردار بھی ہے شرم عصیاں بھی ہے اور خوف سزا بھی دل میں صاف باطن ہے وہی جو کہ گنہ گار بھی ہے اسی ویرانے کو مجنوں کی نظر سے دیکھیں یہی ویرانہ نظر آتا چمن زار بھی ہے جس کو دیکھو وہی منصور بنا پھرتا ہے دور حق گوئی سے خوف رسن و دار بھی ہے تو نے سوچا بھی نہ ہوگا شب فرقت کے لئے چاہنے والوں میں اس کے ترا مختارؔ بھی ہے

غزل · Ghazal

ranj-o-gham jitne hain un ko kaalaa paani bhej de

رنج و غم جتنے ہیں ان کو کالا پانی بھیج دے اے خدا تو میرے گھر میں شادمانی بھیج دے میں بھی اب ہجرت کروں گا اور فقط تیرے لئے مجھ کو بھی پروانۂ نقل مکانی بھیج دے ظلمتیں فرعون بن کر چھا گئی ہیں ہر طرف دست موسیٰ کی طرح اجلی نشانی بھیج دے پھر نیا وہ ابرہہ کعبے کو ڈھانے آ گیا پھر ابابیلوں کا لشکر کامرانی بھیج دے آتشیں موسم جلا دے گا یہ ساری بستیاں کم سے کم میرے نگر میں رت سہانی بھیج دے العطش چلا رہے ہیں سارے ہی پیر و جواں ابر باراں بھیج دے رحمت کا پانی بھیج دے کچھ نہیں قسمت میں لیکن قادر مطلق ہے تو دولت دنیا کہیں سے ناگہانی بھیج دے گوش بر آواز ہو کر سن رہا ہوں میں بغور منتظر ہوں اک ندائے آسمانی بھیج دے میں بھی تیری حمد میں اشعار کچھ تو کہہ سکوں منتخب الفاظ دے حسن معانی بھیج دے یہ بھی رونا کوئی رونا ہے بھلا مختارؔ کا دیدۂ تر کے لئے اب خوں فشانی بھیج دے

غزل · Ghazal

mujh ko biiDi na paan de allaah

مجھ کو بیڑی نہ پان دے اللہ روٹی کپڑا مکان دے اللہ سن لوں دھر کر وہ کان دے اللہ جب موذن اذان دے اللہ لکھ پتی باپ کی وہ بیٹی ہو چاہے بوڑھی جوان دے اللہ اپنی بیگم سے لڑ سکوں کشتی ہاتھ پیروں میں جان دے اللہ پھیکے پکوان میں نہ کھاؤں گا مجھ کو نیچی دکان دے اللہ مجھ کو راکٹ بھی نہ پکڑ پائے اتنی اونچی اڑان دے اللہ کتنا کمزور ہو گیا دولہا انڈا حلوہ و نان دے اللہ عمر اس کی تو مختصر کر دے جس کو لمبی زبان دے اللہ وہ تو صورت سے بھوت لگتا ہے اس کو مرگھٹ مسان دے اللہ آسماں کو تو تان رکھا ہے میرا تنبو بھی تان دے اللہ کچے ڈھونڈے میں کیوں رہے دلبر تاج جیسا مکان دے اللہ کیسے مختارؔ بن گیا شاعر کون اپنا بیان دے اللہ

غزل · Ghazal

nazaakat dekhiye us sim-tan ki

نزاکت دیکھیے اس سیم تن کی اٹھا لیتی ہے گٹھری تین من کی طلب ہے کوئی دولت کی نہ دھن کی مجھے بس پیار سے کہہ دے وہ ڈنکی ہوا ہوں مادر لیلیٰ پہ عاشق مجھے پاگل کہو دیوانہ سنکی رن آؤٹ ہو گیا اکسٹھ پہ لیکن ضرورت تھی ابھی باسٹھویں رن کی لگے ہیں کان بہروں کے بھی بجنے ذرا چوڑی کہیں پر بھی جو کھنکی کفن چوروں کی ٹولی آ گئی ہے الٰہی خیر ہو میرے کفن کی گریباں کیا پجامہ پھاڑ ڈالا کوئی حد بھی ہے اس دیوانہ پن کی پپاڑی پیار کی مختارؔ چھوڑو کہ ڈفلی بج رہی ہے مکر و فن کی

غزل · Ghazal

vaasta hai na davaa hai na duaa maange hai

واسطہ ہے نہ دوا ہے نہ دعا مانگے ہے تیرا بیمار تو آنچل کی ہوا مانگے ہے غنچہ غنچہ چمن دہر کا اللہ اللہ تیرے انداز تبسم کی ادا مانگے ہے چاند کرتا ہے فلک سے ترا دیدار اگر چاندنی بڑھ کے تجھی سے تو ضیا مانگے ہے بجلیاں سی ترے عارض سے دمک اٹھتی ہیں رنگ کاجل بھری آنکھوں سے گھٹا مانگے ہے دل و جاں نذر کروں تجھ پہ لٹا دوں دنیا مجھ سے کیا چیز ان آنکھوں کی حیا مانگے ہے تیرے سانسوں کی مہکتی ملے اے کاش فضا زندہ رہنے کو یہ دل آب و ہوا مانگے ہے مانگنے والے ہزاروں ہیں جہاں میں یوں تو تیرا دیوانہ مگر سب سے جدا مانگے ہے کیوں یہ کچھ لوگ محبت کو برا کہتے ہیں میں تو کہتا ہوں محبت کو خدا مانگے ہے دوش پر زلف معنبر کو بکھر جانے دو اس کی خوشبو کو بصد شوق صبا مانگے ہے اس کے کوچے میں چلیں خون بہا دیں مختارؔ آج دیوانوں سے وہ خون وفا مانگے ہے

غزل · Ghazal

har ek shakhs ki pagDi uchhaalne vaalaa

ہر ایک شخص کی پگڑی اچھالنے والا ذلیل ہوتا ہے ذلت میں ڈالنے والا اسے بھی وقت نے بزدل بنا دیا ہے جو تھا بات بات پہ خنجر نکالنے والا کبھی تو ڈالے گا اس میں خوشی کا ٹکڑا بھی جہاں کے غم مری جھولی میں ڈالنے والا میں آئنہ ہوں مری شخصیت ہے آئینہ یہ سوچ لے ذرا کیچڑ اچھالنے والا ہر ایک لفظ بتاتا ہے کیفیت دل کی ہوں واردات کو شعروں میں ڈھالنے والا زمانہ لاکھ بھی چاہے گرا نہیں سکتا خدا کا لطف ہے مجھ کو سنبھالنے والا میں اپنی بھوک کا اظہار کیوں کروں مختارؔ مجھے نہ بھولے گا دنیا کو پالنے والا

Similar Poets