Mulla Khayali
بالی سروپ سودھن جوں پوتلی نین میں صاحب جمال ایسے سہے نہ کوئی لنگہن میں سنسار کے چتارے لکھنے ملیں ہیں سارے مکھ دیکھ سد بسارے گم ہو رہے اپن میں تجھ کیس گھونگرو والے بادل پٹیاں ہیں کالے تس مانگ کے اجالے بجلیاں اٹھیاں گگن میں لہاریاں بھواں اٹل ہے کالا سمند کجل ہے جل میں نین کمل ہے پتلیاں بھنور نین میں نارنج پھول جانی تس پھول آسمانی دو پھول زعفرانی اپچے ہیں سیم تن میں اپچے اتم رچ سوں دھج لے کھڑے ہیں سج سوں ٹلسے نہ مست گج سوں ہوسی نہ کس پٹن میں مہکتے سو دوئے گالاں جھمکے سو جوت گالاں کس نور کیاں بلالاں چند سور ہے بدن میں یہ بول بولتا ہوں موتی سوں رولتا ہوں امریت گھولتا ہوں گھٹ دودھ کے رنجن میں فارسی میں ہے ہلالیؔ ترکی میں ہے جمالیؔ دکھن میں ہے خیالیؔ ہے شاعری کے فن میں
بالی سروپ سودھن جوں پوتلی نین میں