Mulla Wajhi
مد عشق میں پیا سو چڑیا ہے اثر منجے سد عقل فہم چھین کیا بے خبر منجے دھن مکھ اگن میں پڑنے سمندر ہوا ہوں آج طوطی نہیں ہوں میں کہ جو بھاوے شکر منجے ہاتف خبر دے بیگ اگر دوست ہے مرا کس رات آ ملے گی وہ چنچل سندھر منجے بادل ہو باو ناد پھروں دشت میں اتال نا بھاوے سنگ چک کسی کا نہ گھر منجے اپ بھاوتا ہوا ہوں سبھیں بھاوتیاں کوں چھوڑ دھن بھاوتے وو کھینچ لے اپنے ادھر منجے پھسلا کے خوبی سونچ لجاتا بلا اے کر شاندے یو عشق آج کدھر کا کدھر منجے
مد عشق میں پیا سو چڑیا ہے اثر منجے