Mumtaz Ahmad Mumtaz
Mumtaz Ahmad Mumtaz
Mumtaz Ahmad Mumtaz
Ghazalغزل
دائرے کھینچ لیے بات سے آگے نہ گئے تنگ نظر لوگ روایات سے آگے نہ گئے چاہتے ہم تو بہت کچھ تھے زمانے میں مگر تجھ کو چاہا تو تری ذات سے آگے نہ گئے کارواں ٹھہر گئے رات گزر جانے تک راہبر تھے کہ روایات سے آگے نہ گئے تجھ سے بچھڑے تو کئی بار صدا آئی ہمیں ہم گئے بھی تو خرابات سے آگے نہ گئے ہم کو ممتازؔ تھی امید وفا کی جن سے وہ بھی دو چار ملاقات سے آگے نہ گئے
daaere khinch liye baat se aage na gae
کانٹوں میں پھول کیسے کھلا ہم سے پوچھئے کیا ہے مقام صبر و رضا ہم سے پوچھئے نگراں ہے جو فرات کے وہ کیا بتائیں گے ہاں تشنگیٔ کرب و بلا ہم سے پوچھئے یہ راہبر ہیں جتنے روایت پسند ہیں بے نام منزلوں کا پتہ ہم سے پوچھئے ہر ایک انقلاب کی زد پر ہمیں رہے ہر امتحاں ہمیں نے دیا ہم سے پوچھئے ماضی کی بات اور تھی ممتازؔ آج بھی خود ساختہ ہیں کتنے خدا ہم سے پوچھئے
kaanTon mein phuul kaise khilaa ham se puchhiye
کیا کروں گا میں بھلا کانچ کا یہ گھر لے کر لوگ آ جائیں گے پھر ہاتھ میں پتھر لے کر ذہن ماؤف بدن چور ہے دل آزردہ آؤ سو جائیں سرہانے کوئی پتھر لے کر نام چھپتا تھا جلی حرفوں میں کل تک جس کا آج بیٹھا ہے وہ فٹ پاتھ پہ بستر لے کر جب بھی حالات کے سورج کی تپش تیز ہوئی اوڑھ لی میں نے تری یاد کی چادر لے کر زینت شہر ہیں ممتازؔ یہ اونچے ایوان ہم کہاں جائیں بھلا پھوس کا چھپر لے کر
kyaa karungaa main bhalaa kaanch kaa ye ghar le kar





