SHAWORDS
M

Mumtaz Arshad

Mumtaz Arshad

Mumtaz Arshad

poet
2Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

اسی کی ذات سے نفرت کا زہر پھیلا بھی محبتوں کی وہی دے رہا ہے شکشا بھی بنا ہے خرمن تہذیب کا جو رکھوالا اسی نے خرمن تہذیب کو جلایا بھی زمانے بھر میں خدا کو تلاش کرتا ہے ذرا بتا کہ کبھی اپنے دل میں اترا بھی وہ بلبلہ ہوں سمندر میں بھی جگہ نہ ملی میں سطح آب پر ابھرا بھی اور ٹوٹا بھی ذرا شعور سے لو کام قافلے والو ہے انتظار قیامت میں اک لٹیرا بھی غموں کی رات تو ارشدؔ بڑی اندھیری ہے مگر چھپا ہے اسی میں کہیں سویرا بھی

usi ki zaat se nafrat kaa zahr phailaa bhi

غزل · Ghazal

جو خود کو فطرت فرعون سے بچاتا ہے سمندروں میں وہی راستہ بناتا ہے ہر آدمی دم آمد کو روتا آتا ہے بوقت موت سبھی کو مگر رلاتا ہے یہ اپنے کاٹنے والے کو دیتا ہے سایہ مجھے درخت کی قسمت پہ رونا آتا ہے میں چپ بھی کیسے رہوں آپ کی جفاؤں پر مرا مزاج مجھے بولنا سکھاتا ہے زمیں خدا کی ہے انسان سب برابر ہیں تو سرحدوں کی یہ دیوار کیوں اٹھاتا ہے تو اس کی کاٹ سے واقف نہیں ہے کیا ارشدؔ قلم ہے پاس تو تلوار کیوں اٹھاتا ہے

jo khud ko fitrat-e-fir'aun se bachaataa hai

Similar Poets