
Mumtaz Malik
Mumtaz Malik
Mumtaz Malik
Ghazalغزل
ترے دل کے راستے میں مرا گھر کہیں نہیں تھا جو تجھے عزیز ہوتا وہ ہنر کہیں نہیں تھا تجھے ڈھونڈنے نکلتے کسی روز پا ہی لیتے مگر ان ہتھیلیوں میں وہ سفر کہیں نہیں تھا یوں تو وقت ہے مقرر کسی کام کا مگر کیوں مری روح شاد کرتا وہ گجر کہیں نہیں تھا نہ ہی دل نواز ادائیں نہ ہی شوق جان سوزی مرے دل کا یہ مسافر کہیں در بدر نہیں تھا میں ہوں خوش گمان ورنہ مجھے سوچنا تھا لازم مرے جانے سے اجڑتا وہ شہر کہیں نہیں تھا
tire dil ke raaste mein miraa ghar kahin nahin thaa
اسی کے کہنے پہ منحصر ہے یہ سارا اس کی سر راہ پر ہے کمال داد اس کو اس قدر ہے یہ زور اس کی ہی واہ پر ہے کہاں کہاں کس کو کیا ملے گا یہ فیصلہ سربراہ پر ہے کسی کی آنکھوں کے اشک پر ہے کسی کے ہونٹوں کی آہ پر ہے بدل تو لوں راستہ مگر پھر نظر ابھی زاد راہ پر ہے چلے گا اب کتنی دور تک تو یہ اپنے زور نباہ پر ہے ہر ایک محور ہر ایک مرکز ابھی تک اس کج کلاہ پر ہے وہ بخش دے چاہے مار ڈالے یہ فیصلہ آج شاہ پر ہے کہاں سے پلٹے کہاں پہ ٹھہرے یہ منحصر اب نگاہ پر ہے لو آج ڈوبیں کہ پار اتریں یہ سب تو ممتازؔ چاہ پر ہے
usi ke kahne pe munhasir hai
ظلمت شب کو بہر طور تو ڈھلنا ہوگا اب ہر اک سیپ سے موتی کو نکلنا ہوگا سو چکے ہیں جو سبھی خواب جگاؤ لوگو دل کو تعبیر کی خواہش پہ مچلنا ہوگا اب تو گر گر کے سنبھلنے کا روادار نہیں ٹھوکروں سے تمہیں ہر بار سنبھلنا ہوگا اپنے اعصاب کو جذبات کو فولادی کر دل اگر موم بنا اس کو پگھلنا ہوگا اک ذرا چوک نہ کر دے کہیں برباد تجھے وقت کی لے پہ تجھے جھوم کے چلنا ہوگا بن جا تو اہل ہنر خود پہ بھروسہ کر لے ورنہ تجھ کو بھی کھلونوں پہ بہلنا ہوگا چھوڑ جائے نہ زمانہ تجھے آدھے رستے بن کے براق تجھے آگے نکلنا ہوگا جان لے تو جو ہے ممتازؔ ہے منزل کوئی آرزوؤں کو سر دست کچلنا ہوگا
zulmat-e-shab ko bahar taur to Dhalnaa hogaa
محبت بانٹنے نکلے تھے پتھر لے کے گھر لوٹے بہت سے دشت چھانے اور ہو کے در بدر لوٹے ہماری سوچ سے دل تک بڑی لمبی مسافت ہے چلو اب دیکھتے ہیں کہ کہاں سے یہ نظر لوٹے جہاں میں مسندیں اب بے ہنر آباد کرتے ہیں جبھی تو لے کے آنکھیں نم سبھی اہل ہنر لوٹے لیے ہم کانچ کا دل بر سر بازار بیٹھے ہیں تھے پتھر جن کی جھولی خوش وہی تو بازی گر لوٹے وہ جھوٹے لوگ جو مل کر ہمیں کو جھوٹ کر دیں گے انہیں کو آزما کر ہم بھی اپنی رہ گزر لوٹے قرار جاں بنانے کو بہانے اور کیا کم تھے بھلا ممتازؔ لے کے کون یوں زخمی جگر لوٹے
mohabbat baanTne nikle the patthar le ke ghar lauTe
میں محبت کے ماروں کی دنیا سے ہوں مجھ سے کیجے وفا سخت مشکل میں ہوں دور تک درد کی سرحدیں جا چکیں کوئی دے دو دوا سخت مشکل میں ہوں زندگی قید میں اک زمانے سے ہے اب تو کر دو رہا سخت مشکل میں ہوں تجھ سے کوئی بھلائی توقع نہیں کوئی کر دے بھلا سخت مشکل میں ہوں اس کی جاتی ہے جس کی ہو عزت کوئی کیا گیا ہے ترا سخت مشکل میں ہوں ہر گھڑی جس نے مشکل میں ڈالا مجھے مجھ سے وہ کہہ گیا سخت مشکل میں ہوں چھین کر پوچھتا ہے ٹھکانے سبھی ہے کہاں آسرا سخت مشکل میں ہوں جس کو سونپے تھے درجے حفاظت کے وہ رہزنوں سے ملا سخت مشکل میں ہوں کہہ کے ممتازؔ یوں آزمائے گئے ہو گئی انتہا سخت مشکل میں ہوں اب شش و پنج میں مجھ کو رہنا نہیں ہو کوئی فیصلہ سخت مشکل میں ہوں بھول بیٹھے ہیں پرواز کی جب ادا در قفس کا کھلا سخت مشکل میں ہوں
main mohabbat ke maaron ki duniyaa se huun





