
Mumtaz Naseem
Mumtaz Naseem
Mumtaz Naseem
Ghazalغزل
miri zindagi ki kitaab kaa hai varaq varaq yuun sajaa huaa
مری زندگی کی کتاب کا ہے ورق ورق یوں سجا ہوا سر ابتدا سر انتہا ترا نام دل پہ لکھا ہوا یہ چمک دمک تو فریب ہے مجھے دیکھ گہری نگاہ سے ہے لباس میرا سجا ہوا مرا دل مگر ہے بجھا ہوا مری آنکھ تیری تلاش میں یوں بھٹکتی رہتی ہے رات دن جیسے جنگلوں میں ہرن کوئی ہو شکاریوں میں گھرا ہوا تری دوریاں تری قربتیں ترا لمس تیری رفاقتیں مجھے اب بھی وجہ سکوں تو ہے تو ہے دور مجھ سے تو کیا ہوا یہ گلے کی بات تو ہے مگر مجھے اس سے کوئی گلہ نہیں جو اجڑ گیا مرا گھر تو کیا ہے تمہارا گھر تو بچا ہوا ترے آنسوؤں سے لکھا ہوا مرے آنسوؤں سے مٹا ہوا میں نسیمؔ خط کو پڑھوں بھی کیا کہ حصار آب ہی آب ہے ترے آنسوؤں سے لکھا ہوا مرے آنسوؤں سے مٹا ہوا
tujhe kaise ilm na ho sakaa baDi duur tak ye khabar gai
تجھے کیسے علم نہ ہو سکا بڑی دور تک یہ خبر گئی ترے شہر ہی کی یہ شاعرہ ترے انتظار میں مر گئی کوئی باتیں تھیں کوئی تھا سبب جو میں وعدہ کر کے مکر گئی ترے پیار پر تو یقین تھا میں خود اپنے آپ سے ڈر گئی وہ ترے مزاج کی بات تھی یہ مرے مزاج کی بات ہے تو مری نظر سے نہ گر سکا میں تری نظر سے اتر گئی ہے خدا گواہ ترے بنا مری زندگی تو نہ کٹ سکی مجھے یہ بتا کہ مرے بنا تری عمر کیسے گزر گئی وہ سفر کو اپنے تمام کر، گئی رات آئیں گے لوٹ کر یہ نسیمؔ میں نے سنی خبر تو میں شام ہی سے سنور گئی
chalte chalte ye haalat hui raah mein bin piye mai-kashi kaa mazaa aa gayaa
چلتے چلتے یہ حالت ہوئی راہ میں بن پئے مے کشی کا مزا آ گیا پاس کوئی نہیں تھا مگر یوں لگا کوئی دل سے مرے آ کے ٹکرا گیا آج پہلے پہل تجربہ یہ ہوا عید ہوتی ہے ایسی خبر ہی نہ تھی چاند کو دیکھنے گھر سے جب میں چلی دوسرا چاند میرے قریب آ گیا اے ہوائے چمن مجھ پہ احساں نہ کر نکہت گل کی مجھ کو ضرورت نہیں عشق کی راہ میں پیار کے عطر سے میرے سارے بدن کو وہ مہکا گیا ہجر کا میرے دل میں اندھیرا کئے وہ جو پردیس میں تھا بسیرا کیے جس کے آنے کا کوئی گماں بھی نہ تھا دفعتاً مجھ کو آ کے وہ چونکا گیا رنگ ممتازؔ چہرے کا ایسا کھلا زندگی میں نیا حادثہ ہو گیا آئنہ اور میں دونوں حیران تھے میں بھی شرما گئی وہ بھی شرما گیا





