SHAWORDS
Mumtaz Rashid

Mumtaz Rashid

Mumtaz Rashid

Mumtaz Rashid

poet
23Ghazal

Ghazalغزل

See all 23
غزل · Ghazal

دشت تعبیر میں آنکھوں کو جلانے کے لئے رات آئی تھی ہمیں خواب دکھانے کے لئے دن کو ہر گام پہ وہ ساتھ تھا سائے کی طرح شام آتے ہی ہمیں چھوڑ کے جانے کے لئے یاد کرنا بھی خطا یاد نہ کرنا بھی خطا ہم تو جیتے رہے الزام اٹھانے کے لئے جانے کیوں دشت تمنا میں بہار آ پہنچی ہم ہی کیا کم تھے یہاں خاک اڑانے کے لئے چشم ویراں کا بھلا کس سے مداوا ہوتا تم ہی آ جاتے کبھی ہم کو رلانے کے لئے شہر دل تند ہواؤں کا ہے مسکن راشدؔ کون آئے گا یہاں شمع جلانے کے لئے

dasht-e-taa'bir mein aankhon ko jalaane ke liye

غزل · Ghazal

سیل خوں پیکر اشعار میں ڈھلتا ہی نہیں غم وہ لاوا ہے جو سینے سے ابلتا ہی نہیں آئنہ لاکھ مگر ایک سی تصویریں ہیں کس کو دیکھوں میں کوئی شکل بدلتا ہی نہیں جو بھٹکتا تھا کبھی دھوپ کے صحراؤں میں اب وہ سایہ مری چوکھٹ سے نکلتا ہی نہیں کوئی تحریر مٹائیں تو دھواں اٹھتا ہے دل وہ بھیگا ہوا کاغذ ہے کہ جلتا ہی نہیں مجھ سے منہ پھیرنے والے مری قیمت پہچان میں وہ سکہ ہوں جو بازار میں چلتا ہی نہیں کون چھینے گا مری سوچ کی دولت راشدؔ جسم کا بوجھ تو لوگوں سے سنبھلتا ہی نہیں

sail-e-khun paikar-e-ashaar mein Dhaltaa hi nahin

غزل · Ghazal

ہر چہرے پر خوف کی چادر شعلوں کی بارش گھر گھر سونی آنکھیں دیکھ رہی ہیں جلتے شہر کا یہ منظر پتا بھی کھڑکے تو دل سینوں میں خوف سے پھٹ جائیں کتنی چیخوں کا مدفن ہے سہما ہوا خاموش نگر چہرے کی تحریر کے پیچھے کیا دکھ ہے یہ بھی سمجھو میں کوئی اخبار نہیں ہوں تم رکھ دو جس کو پڑھ کر ہم ہی کچھ نادان تھے جانے کتنے خواب سجا بیٹھے آس نے یوں ہی دیکھ لیا تھا چلتے چلتے ایک نظر جب بھی گزرتا ہے کوئی آوارہ ہواؤں کا جھونکا تپتی ٹین کی اونچی چھت پر بجنے لگتے ہیں کنکر پیچھے رہ جانے والوں پر کس منہ سے الزام دھریں ہم جس کی اگلی صف میں تھے ہار گیا ہے وہ لشکر کوئی پتھر پھینک کے اس میں اپنا عکس مٹا ڈالیں جلتی ریت میں کھو جائے گی یہ ندی آگے چل کر راشدؔ کس امید پہ دل کا آئینہ چمکاتے ہو جانے کیا تصویر دکھائے دھندلا دھندلا سن ستر

har chehre par khauf ki chaadar shoalon ki baarish ghar ghar

غزل · Ghazal

خاک تا خاک وہ پہچان نہ پایا ہے مجھے اس نے ہر بار ہواؤں میں اڑایا ہے مجھے چاہتا ہوں کہ مجھے توڑ دے اب اس کا سکوت جس کی آواز نے آئینہ بنایا ہے مجھے اب گرہ میں نہیں کھونے کے لیے کچھ باقی زندگی تو نے بھی کس موڑ پہ پایا ہے مجھے میں تری راہ کی دیوار نہیں تھا اے دوست تو نے کیا جان کے نظروں سے گرایا ہے مجھے روشنی میری اندھیروں سے الجھ سکتی تھی میرا دکھ یہ ہے کہ سورج نے بجھایا ہے مجھے اب سنبھلنے نہیں دے گا کہیں تنہائی کا بوجھ چھوڑنے وہ مری دہلیز تک آیا ہے مجھے میں کوئی گوہر نایاب نہیں ہوں راشدؔ کیا سمجھ کے کوئی بازار میں لایا ہے مجھے

khaak-taa-khaak vo pahchaan na paayaa hai mujhe

غزل · Ghazal

فضا میں بکھرے ہوئے رنگ جھلملاتے کیا وہی ہوا تھی چراغوں کو پھر جلاتے کیا شکستہ جسم تھا سورج کا قہر جھیلے ہوئے برستے ابر کے چھینٹے ہمیں جگاتے کیا تمام دور کی لہریں تھیں خواب کی صورت بجا تھی پیاس سرابوں میں ڈوب جاتے کیا ہر ایک لمحہ تھا اپنے ہی عکس سے دھندلا گزرتے وقت کو ہم آئنہ دکھاتے کیا لبوں پہ جم گئی دیوار و در کی خاموشی تمام شہر تھا ویراں صدا لگاتے کیا یہاں بھی کس کو تھی امید پار اترنے کی ندی جو راہ میں ملتی تو لوٹ آتے کیا بھٹک رہے ہیں زمانے سے غم کے صحرا میں اب اور اس کی صدا کا فریب کھاتے کیا تمام عمر گزاری رواں دواں راشدؔ تھے برگ خشک کہیں پر قدم جماتے کیا

fazaa mein bikhre hue rang jhilmilaate kyaa

غزل · Ghazal

پھول مہکے ہیں صداؤں کے نہ چہرہ کوئی کتنا ویراں نظر آتا ہے دریچہ کوئی بد گماں ہو کے مجھے وقت کے صحرا میں نہ چھوڑ اپنے سائے سے بھی کرتا ہے کنارہ کوئی رک گیا شام کے آنگن سے گزرتا سورج پڑ رہا ہے کسی دیوار پہ سایہ کوئی یوں چھپائے ہوئے پھرتا ہوں ہتھیلی کے نقوش جیسے مٹھی میں ہوا اڑتا ہوا لمحہ کوئی پوچھتا کس سے میں کھوئے ہوئے چہروں کا پتہ شہر کی بھیڑ میں نکلا نہ شناسا کوئی اس نے یوں دل کو مرے غم کی امانت سونپی جیسے مٹی میں چھپا دیتا ہے سونا کوئی یہ مری آنکھ ہے یا آئنہ خانہ تیرا ہر قدم پر نظر آیا مجھے تجھ سا کوئی میرے چہرے پہ بھی حالات کی تحریریں تھیں میں بھی اخبار تھا راشدؔ مجھے پڑھتا کوئی

phuul mahke hain sadaaon ke na chehra koi

Similar Poets