SHAWORDS
M

Mumtaz Siddiqi

Mumtaz Siddiqi

Mumtaz Siddiqi

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

وقت کی لہروں پہ چلتا کون ہے دھوپ کے ہم راہ سایا کون ہے بھول جائیں جس سے مل کر تلخیاں آپ کے نزدیک ایسا کون ہے شام کے ڈھلتے ہی دستک کس نے دی بن کے جوگی یہ بھٹکتا کون ہے لاکھوں طوفاں اور تن تنہا کوئی دیکھیں اب آنکھیں چراتا کون ہے آپ نے تو کہہ دیا فرصت نہیں دل پہ جو گزری ہے کہتا کون ہے دل نے آخر فیصلہ دے ہی دیا راستے کو اب بدلتا کون ہے پھر ہمارے ظرف کا ہے امتحاں دیکھنے والا تماشا کون ہے

vaqt ki lahron pe chaltaa kaun hai

غزل · Ghazal

بھرتے ہی چھلک جانا پیمانہ مزاجی ہے سامان مصیبت یہ طفلانہ مزاجی ہے ہم ہیں کہ دھڑکتے ہیں دل بن کے چراغوں کا کیا آپ نے سمجھا ہے پروانہ مزاجی ہے یہ قافلے شعروں کے یہ انجمن آرائی غم خانۂ ہستی میں دیوانہ مزاجی ہے کیوں آج یہ محفل میں خاموشیاں بکھری ہیں گم سم ہیں کئی چہرے بیگانہ مزاجی ہے بستا ہی نہیں کوئی سب جانے کو بیٹھے ہیں اس گھر ہی کی قسمت میں ویرانہ مزاجی ہے بدلے گا یہ موسم بھی یہ دور بھی گزرے گا دیکھیں گے یہاں کب تک شاہانہ مزاجی ہے ہم خاک ہوئے ایسے مٹتا ہی نہیں کوئی لیکن وہی سودا ہے دیوانہ مزاجی ہے ممتازؔ چلو اک دن تاروں سے کریں باتیں انسانوں کی فطرت میں افسانہ مزاجی ہے

bharte hi chhalak jaanaa paimaana-mizaaji hai

غزل · Ghazal

کمال شوق کی لذت سمیٹ لائی ہوں میں شہر جاں میں تمازت سمیٹ لائی ہوں قدم قدم پہ مرا امتحاں ضروری ہے زمانے بھر کی محبت سمیٹ لائی ہوں شکستہ خوابوں کا میلہ لگا ہے آنگن میں میں لکھ رہی ہوں کہ چاہت سمیٹ لائی ہوں یہاں تو شعلوں کا انبار ملتا جاتا ہے میں مطمئن تھی کہ جنت سمیٹ لائی ہوں اٹھے ہیں سیکڑوں طوفاں جدھر اٹھائی نظر میں دل کے ساتھ ہی آفت سمیٹ لائی ہوں تمام عمر کی مجھ کو ملی ہے مزدوری میں عمر بھر کی شکایت سمیٹ لائی ہوں اے خاک دل تجھے کاجل بنا لیا میں نے یہ کس قرینے سے وحشت سمیٹ لائی ہوں اندھیری بستی میں جلنے لگے دیے ممتازؔ میں جگنوؤں کی علامت سمیٹ لائی ہوں

kamaal-e-shauq ki lazzat sameT laai huun

غزل · Ghazal

یاد میں تیری کب بھلا شام سے دل جلا نہیں اس کے سوا حیات میں کام کوئی رہا نہیں لگتا ہے تم کو دیکھ کے رک سی گئی ہیں گردشیں ورنہ یہاں تو دو قدم چلنے کا راستہ نہیں جانے وہ اجنبی مجھے اپنا شناسا کیوں لگا جب کہ ہمارے درمیاں کوئی بھی رابطہ نہیں شام قفس نہ پوچھئے کیسی قیامتیں رہیں ٹوٹیں بہت سی تیلیاں قیدی مگر اڑا نہیں راہ گزار شوق میں دور تلک غبار ہے کیسے اٹھاؤں میں قدم کچھ بھی تو سوجھتا نہیں میرا وجود بے صدا لفظوں میں کیسے ڈھل گیا تم نے تو خیر کہہ دیا میری کوئی خطا نہیں لائی مجھے کہاں تلک دیکھیے میری بے خودی آج مجھے یقیں ہوا عام یہ راستہ نہیں

yaad mein teri kab bhalaa shaam se dil jalaa nahin

Similar Poets