Munawwar Amrohvi
جی رہا ہوں اس طرح تنہائیوں میں ڈوب کے جیسے کھو جائے کوئی رسوائیوں میں ڈوب کے ریت کی دیوار ہے ترک تعلق کا خیال سوچیے احساس کی گہرائیوں میں ڈوب کے مجھ کو آوازیں دیا کرتی ہے پہروں زندگی تیری یادوں کی حسیں پرچھائیوں میں ڈوب کے جن میں پنہاں تھی تڑپتی آرزؤں کی صدا کھو گئیں وہ سسکیاں شہنائیوں میں ڈوب کے دل کی جن گہرائیوں سے ہم نے چاہا ہے تمہیں ہم غزل کہتے ہیں ان گہرائیوں میں ڈوب کے
ji rahaa huun is tarah tanhaaiyon mein Duub ke