
Munawwar Hashmi
Munawwar Hashmi
Munawwar Hashmi
Ghazalغزل
چاند کی رعنائیوں میں راز یہ مستور ہے خوب صورت ہے وہی جو دسترس سے دور ہے اپنی سوچوں کے مطابق کچھ بھی کر سکتا نہیں آدمی حالات کے ہاتھوں بہت مجبور ہے خانۂ دل میں تم اپنے جھانک کر دیکھو ذرا میرے اخلاص و محبت کا وہاں بھی نور ہے حسن کی تخلیق میں مصروف ہے رب جہاں اور شاعر حسن کی تعریف پر مامور ہے یہ ہمارے حق میں اچھا ہو برا ہو کچھ بھی ہو ہم نے کرنا ہے وہی جو آپ کو منظور ہے وہ سراپا حسن ہے اور میں سراپا عشق ہوں ساز سے دل اس کا میرا سوز سے معمور ہے مجھ کو ہے منظور جبر ہجر بھی اس کے لیے مجھ سے رہ کر دور بھی کوئی اگر مسرور ہے آدمی کم گو ہے اور گھر سے نکلتا بھی نہیں شہر میں پھر بھی منورؔ کس قدر مشہور ہے
chaand ki raa'naaiyon mein raaz ye mastur hai
روز گرے اک خواب عمارت ملبے میں دب جاؤں صدیوں کی دیواریں پھاندوں لمحے میں دب جاؤں کبھی کبھی صحراؤں کو بھی بند کروں مٹھی میں اور کبھی اک ریت کے ادنیٰ ذرے میں دب جاؤں میں تو خود اک پیڑ گھنا ہوں یہ ہے کیسے ممکن چھوٹے موٹے پودوں کے میں سائے میں دب جاؤں ایسا بھی ہو جائے اکثر ویسا بھی ہو جائے سیلابوں کا رستہ روکوں قطرے میں دب جاؤں میرے نام کا نون منورؔ اصل میں ایک معمہ لاکھوں شرحوں میں ابھروں اک نکتے میں دب جاؤں
roz gire ik khvaab-e-imaarat malbe mein dab jaaun
جب زمانے میں فقط افسردگی رہ جائے گی میری آنکھوں میں کرن امید کی رہ جائے گی صبح دم آ جائے گا اس کا پیام معذرت جس کی خاطر آنکھ شب بھر جاگتی رہ جائے گی کھل رہے ہیں سوچ کے صحرا میں یادوں کے گلاب تو نہ ہوگا تو یہاں خوشبو تری رہ جائے گی وقت کی سرکش ہواؤ! جب دیا بجھ جائے گا صبح کی صورت میں اس کی روشنی رہ جائے گی
jab zamaane mein faqat afsurdagi rah jaaegi
اک ایسا موڑ سر رہ گزر بھی آئے گا وفور خوف میں لطف سفر بھی آئے گا یہ اس کا شہر ہے اس کی مہک بتاتی ہے ذرا تلاش کرو اس کا گھر بھی آئے گا اسی یقین پہ ہر ظلم سہتے رہتے ہیں کہ شاخ صبر پہ اک دن ثمر بھی آئے گا قریب منزل جاناں سرور دل کے ساتھ جنوں کی فتنہ طرازی سے ڈر بھی آئے گا کھلے رہیں گے دریچے اس آس پر گھر کے کبھی تو جھونکا ہوا کا ادھر بھی آئے گا چھپائے پھرنے سے کب عشق و مشک چھپتے ہیں چڑھے گا چاند تو سب کو نظر بھی آئے گا اب اس کے بند کواڑوں کے پاس بیٹھ رہیں جو شخص گھر سے گیا ہے وہ گھر بھی آئے گا سرشک خوں کی طرح لفظ آنکھ سے ٹپکیں تو پھر دعا میں منورؔ اثر بھی آئے گا
ik aisaa moD sar-e-rahguzar bhi aaegaa
سر اٹھائے گی اگر رسم جفا میرے بعد مجھ کو ڈھونڈے گا مرا دشت انا میرے بعد اپنی آواز کی صورت میں رہوں گا زندہ میرے پرچم کو اڑائے گی ہوا میرے بعد اپنے کوچے سے چلے جانے پہ مجبور نہ کر کس سے پوچھے گا کوئی تیرا پتہ میرے بعد اتنی امید تو ہے اپنے پسر سے مجھ کو میری تربت پہ جلائے گا دیا میرے بعد عشق دنیا پہ عنایات کیے جاتا ہے کس کو کرنے ہیں یہ سب قرض ادا میرے بعد پھول صحرا میں کھلائے ہیں منورؔ میں نے تاکہ مہکی رہے کچھ دیر فضا میرے بعد
sar uThaaegi agar rasm-e-jafaa mere baa'd
ہم اپنی جاگتی آنکھوں میں خواب لے کے چلے وہ کیا سوال تھے جن کے جواب لے کے چلے پہن لی کرب کی پوشاک راہ ہستی میں ہم اپنے واسطے خود ہی عذاب لے کے چلے یہ اور بات کے جگنو اسیر کر نہ سکے ہتھیلیوں پہ مگر آفتاب لے کے چلے ورق ورق پہ سجائی ہے خون کی تحریر کہ شعر شعر نیا انتخاب لے کے چلے جدھر جدھر سے بھی گزرے بچھا دیا سیلاب ہم اشک لے کے چلے یا چناب لے کے چلے انہی کے ہاتھ منورؔ لہولہان ہوئے جو لوگ میرے چمن سے گلاب لے کے چلے
ham apni jaagti aankhon mein khvaab le ke chale





