SHAWORDS
Munawwar Jahan Munawwar

Munawwar Jahan Munawwar

Munawwar Jahan Munawwar

Munawwar Jahan Munawwar

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

ذرا سا رنگ ہی بھر دو مرے دل کے فسانے میں بھلا کیا دیر ہوگی تم کو میرے پاس آنے میں گھٹن کے بعد جب دل کو ذرا آرام ملتا ہے مزہ آتا ہے کتنا گنگنانے مسکرانے میں مجھے معلوم ہے ہرجائی دھوکے باز ہے کتنا کہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہی ہیں آخر زمانے میں چھپا لوں راز دل کتنا ہی اک دن کھل کے رہتا ہے تو پھر بیکار ہے دنیا سے چھپنے اور چھپانے میں منورؔ کو سمجھ نہ پائے کیوں جانے جہاں والے ملے گا کب کوئی مجھ جیسا سادہ دل زمانے میں

zaraa saa rang hi bhar do mire dil ke fasaane mein

غزل · Ghazal

ان سے ملی نگاہ تو موسم بدل گیا دامان چاک چاک تمنا کا سل گیا دل کا شگوفہ اس گل نازک سے کھل گیا دیکھا ذرا ٹٹول کے پہلو سے دل گیا طوفان اک بلا کا مرے آنسوؤں میں تھا پگھلا نہ وہ کلیجہ سمندر کا ہل گیا عشق تباہ حال نے وہ معجزہ کیا باغ ارم سے خانۂ ویران مل گیا اس سنگ دل نے پاؤں سے مسلی جو شاخ گل ایسا لگا کہ دل کا کوئی زخم چھل گیا تو اعتبار زیست سے آنکھیں ملا کے دیکھ خوابوں کے پیرہن میں ترا روپ کھل گیا یہ کون ہے اتار دیا زندگی سے بوجھ وہ کون تھا جو دل پہ مرے رکھ کے سل گیا اس کا خیال تھا کہ منورؔ کے دل کے داغ لیکن اندھیرا دل سے مرے مستقل گیا

un se mili nigaah to mausam badal gayaa

غزل · Ghazal

اے دل بتا یہ ان کی نوازش ہے یا نہیں وہ درد مل گیا ہے کہ جس کی دوا نہیں خوش فہمیوں کو دل نے فراموش کر دیا یہ اور بات ہے کہ تمہیں بھولنا نہیں ماؤف کر دیا ہے غموں نے دل و دماغ اب تو ہمیں خیال کسی بات کا نہیں ضبط الم پہ حرف نہ آنے دیا کبھی آنکھوں سے ایک اشک بھی اب تک گرا نہیں موجوں کو کیا خبر ہے جو ہیں سطح آب پر دریا میں جو چھپا ہے وہ طوفاں اٹھا نہیں نیرنگئ جہاں کا کہاں تک مشاہدہ اے فرصت نگاہ ترا جی بھرا نہیں یہ زیست کا سفر بھی منورؔ عجیب ہے منزل ہے کتنی دور ہمیں کچھ پتا نہیں

ai dil bataa ye un ki navaazish hai yaa nahin

غزل · Ghazal

ہوگا کم اپنا فاصلہ یوں ہی کٹ ہی جائے گا راستہ یوں ہی شوخیاں تیری یاد آتی ہیں پھر سے آ کر مجھے ستا یوں ہی میں جلاتی رہی وفا کے چراغ اور بجھاتی رہی ہوا یوں ہی جب کہ قسمت میں روشنی ہی نہیں کیوں یہ خورشید بھی اگا یوں ہی اس کی آنکھیں تو مے کا ساگر ہیں اے مرے دل تو ڈوب جا یوں ہی پھول جھڑتے ہیں اس کی باتوں سے وہ نہیں ہوتا لب کشا یوں ہی میں نے سورج کا ساتھ پایا ہے ہے منورؔ نہیں ضیا یوں ہی

hogaa kam apnaa faasla yunhi

غزل · Ghazal

کہیں بھی جاؤ مگر دل کے آس پاس رہو سکون بن کے رہو زندگی کی آس رہو ملے جو وقت تو وعدہ کبھی نبھا دینا یہ کب کہا ہے ہمیشہ وفا شناس رہو مٹا دیں فاصلہ جو کچھ بھی ہم میں تم میں ہے میں چاہتی ہوں مری دھڑکنوں کی سانس رہو وہ روز و شب جو مصیبت کے تھے ہوئے کافور کہ میرے ہوتے ہوئے تم نہ بد حواس رہو کیا ہے تم نے منورؔ کسی کا خانۂ دل یہ کیا ستم ہے کہ تم روئے التماس رہو

kahin bhi jaao magar dil ke aas-paas raho

غزل · Ghazal

سوچا ہے اس کو جب بھی تو یہ من سنور گیا پھر جا سکا نہ ذہن سے مجھ میں اتر گیا اس کو خبر نہیں ہے جو مجھ پر گزر گئی آئینہ جیسے ٹوٹ کے یکسر بکھر گیا میں چاہوں اس کو بھولنا کیسے بھلاؤں میں جادو تھا کوئی جس کا اثر مجھ پہ کر گیا کیسا عجیب شخص ہے مجھ سے ملا تو وہ خوشبو مثال سارے بدن میں بکھر گیا میں آج بھی رہی ہوں منورؔ اک عہد پر سودائی میرا عہد ہے لیکن مکر گیا

sochaa hai us ko jab bhi to ye man sanvar gayaa

Similar Poets