
Munawwar Lakhnavi
Munawwar Lakhnavi
Munawwar Lakhnavi
Ghazalغزل
پھر کیا تھا جو پردے میں تھا رسوا تو نہیں تھا تھا راز محبت مگر افشا تو نہیں تھا تم جرم وفا پر جو ہو آمادۂ تعزیر یہ صرف مرے دل کا تقاضا تو نہیں تھا کیا سوچ کے آئی تھی اسے دیکھنے خلقت کچھ معرکۂ عشق تماشا تو نہیں تھا کیوں آ کے مرے غم کا سہارا ہوئی امید امروز کا غم تھا غم فردا تو نہیں تھا پھر کس لئے معتوب زمانہ تھا منورؔ کہتا نہ غزل سوچ کے ایسا تو نہیں تھا
phir kyaa thaa jo parde mein thaa rusvaa to nahin thaa
مانوس ہو گئے ہیں ستم پیشگی سے ہم اب کیا کریں کرم کا تقاضا کسی سے ہم اس سے تو اپنے حق میں اندھیرا ہی خوب تھا بے نور ہو گئے ہیں نئی روشنی سے ہم آخر سر نیاز جھکائیں تو کس طرح نا آشنا ہیں رسم و رہ بندگی سے ہم تسکین ذوق کے لئے مغز سخن ہے شرط آسودۂ غزل نہ ہوئے نغمگی سے ہم حد ادب میں رہ کے منورؔ ہو گفتگو مومن کے منہ نہ آئیں سخن گستری سے ہم
maanus ho gae hain sitam peshgi se ham
حواس و ہوش سے بیگانہ ہونا بھی ضروری ہے کبھی انسان کا دیوانہ ہونا بھی ضروری ہے یہ آنکھیں کس لیے پھر اور دی ہیں دینے والے نے چراغ حسن کا پروانہ ہونا بھی ضروری ہے کچھ اس عنوان سے پھیلے کہ مقبول دو عالم ہو حقیقت کے لئے افسانہ ہونا بھی ضروری ہے نہیں بے کیف صہبا ٹھیک دنیا سے گزر جانا ہلاک گردش پیمانہ ہونا بھی ضروری ہے بغیر اس کے جنوں کی عظمتوں پر تبصرہ کیسا منورؔ کے لئے فرزانہ ہونا بھی ضروری ہے
havaas-o-hosh se begaana honaa bhi zaruri hai
ان سے برگشتہ نگاہی کے سوا کچھ نہ ملا آخر کار تباہی کے سوا کچھ نہ ملا دل کو ہر چند کریدا مگر اس کی تہ میں ایک بہکے ہوئے راہی کے سوا کچھ نہ ملا چاند تارے نگہ پاس میں نکلے بے نور آسمانوں میں سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا تجزیہ ان کے ارادوں کا جو کرنے بیٹھے غیر کی پشت پناہی کے سوا کچھ نہ ملا کی منورؔ نے دعا جو بھی وہ ناکام رہی اجر میں قہر الٰہی کے سوا کچھ نہ ملا
un se bargashta-nigaahi ke sivaa kuchh na milaa
مے کدہ میرے لئے جائے تصادم تو نہیں لاکھ نشہ ہے مگر ہوش مرے گم تو نہیں معترض کیوں ہے زمانہ مری بیتابی پر خامشی کی ہی ادا ہے یہ تکلم تو نہیں کیوں سفینہ مری ہستی کا ہو غرقاب فنا جزر و مد دل کا ہے دریا کا تلاطم تو نہیں اب خطا کوش نہ ہوں مجھ کو یہ تنبیہ بھی ہے اے خطا پوش یہ کچھ شان ترحم تو نہیں اس کی فریاد کا کیوں تم پہ اثر ہوتا ہے اور کوئی ہے منورؔ کا خدا تم تو نہیں
mai-kada mere liye jaa-e-tasaadum to nahin
یہ اتنی برہمی کیوں ہے یہ مجھ سے بد گماں کیوں ہو جو میں تم کو سناتا ہوں وہ میری داستاں کیوں ہو الٰہی خیر کیا کوئی مصیبت آنے والی ہے جو اک دنیا سے کھنچتا ہو وہ مجھ پر مہرباں کیوں ہو مری غیرت یہ خود آرائی گوارا کر نہیں سکتی نہ جو میرا خدا ہو وہ خدائے دو جہاں کیوں ہو رخ گیتی کا غازہ خاک ہے ان خوش نہادوں کی وجود اہل دل اہل زمانہ پر گراں کیوں ہو زمانہ لمحہ لمحہ کام آتا ہے زمانے کے منورؔ عمر اک میری ہی عمر رائیگاں کیوں ہو
ye itni barhami kyuun hai ye mujh se bad-gumaan kyuun ho





