SHAWORDS
M

Munawwar Nomani

Munawwar Nomani

Munawwar Nomani

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ہر قدم احتیاط سے رکھنا تم یوںہی مجھ سے فاصلے رکھنا تبصرہ مجھ پہ کرتے وقت کوئی میرے حالات سامنے رکھنا گھر سے نکلے تو ہو ہواؤں پر اپنی نظروں میں راستے رکھنا جانے کب وقت کس کو ٹھکرا دے تم کتابوں میں حاشیے رکھنا بے ثمر ہیں جو سایہ دار درخت سائے ان کے سنبھال کے رکھنا اپنی پہچان کھو چکے وہ بھی جن کی فطرت تھی آئنے رکھنا آج ہر شہر شہر فتنہ ہے گھر کے دروازے مت کھلے رکھنا یہ بزرگوں کی وضع داری تھی گھر کی دہلیز پر دیے رکھنا جب منورؔ غزل سنوارو تم لفظ چن چن کے کچھ نئے رکھنا

har qadam ehtiyaat se rakhnaa

غزل · Ghazal

قد گھٹ گئے وہ سب کے برابر نہیں رہے جو لوگ بستی والوں سے مل کر نہیں رہے لازم ہے احتیاط کہ فتنہ ہے شہر میں حالانکہ بستی والوں سے ہم ڈر نہیں رہے پنگھٹ نہیں رہے نہ کھنک چوڑیوں کی ہے جب سے ہمارے گاؤں میں چھپر نہیں رہے اک عمر اپنے قدموں سے لپٹا رہا سفر ہم جس قدر سفر میں رہے گھر نہیں رہے تب جا کے یوں رکا تھا تشدد کا سلسلہ ہاتھوں میں جب کسی کے بھی پتھر نہیں رہے ہم بے قبا ہیں آج نہ چادر ہی سر پہ ہے ایسے تو ہم کبھی بلا بستر نہیں رہے یارو سند ملے ہمیں جن کے کلام سے اس دور میں اب ایسے سخنور نہیں رہے جس شہر کی فضاؤں میں نفرت کا زہر ہو اس شہر بے اماں میں منورؔ نہیں رہے

qad ghaT gae vo sab ke baraabar nahin rahe

غزل · Ghazal

تہذیب کے سوال پہ تکرار کیا کریں کیسے بچائیں جبہ و دستار کیا کریں خوں رنگ سرخیوں کی شکایت فضول ہے حالات ہی کچھ ایسے ہیں اخبار کیا کریں کیا کیا یہ سوچ کر نظر انداز کر دیا اب زندگی کو اور بھی دشوار کیا کریں جگنو ملے خلوص سے تو وہ بھی شمس ہے بے نور ان چراغوں کے انبار کیا کریں سوچو ذرا کہ کیسے ہو تعمیر زندگی یہ زلزلوں کا شہر ہے معمار کیا کریں الفاظ اب برتنے لگے ہیں غریب تر کم مائیگی کا دور ہے فنکار کیا کریں

tahzib ke savaal pe takraar kyaa karein

غزل · Ghazal

جب اذیت در و دیوار کی تنہائی دے مجھ کو تسکین تری یاد کی پروائی دے ذہن بخشا ہے اگر تو نے مجھے شاعر کا میرے اللہ مجھے قوت گویائی دے شہر ایسا کہ جہاں سر بھی چھپانا مشکل اپنے بچوں کو کہاں سے کوئی انگنائی دے لفظ جو برتو سلیقے سے برتنا یارو یہ بھی ممکن ہے کہ اک لفظ ہی رسوائی دے اپنے بچوں کو میں سونے کا نوالہ دے دوں تھوڑی راحت جو مجھے وقت دے مہنگائی دے خاک کو روح جو بخشی ہے تو اے میرے خدا دل کشادہ دے مجھے ہمت و بینائی دے جس کو سن سن کے منورؔ نے گزارے برسوں پھر سماعت کو وہ آواز کی شہنائی دے

jab aziyyat dar-o-divaar ki tanhaai de

غزل · Ghazal

نئے سفینوں کو ساحل کی دوریاں دے دیں ذہین بچوں کے ہاتھوں میں تتلیاں دے دیں وہ اک چراغ نہ بجھ پایا تم سے جس کے لیے تمام شہر چراغاں کو آندھیاں دے دیں بہت عظیم سہی دولت انا لیکن انا پسندی نے کتنوں کو سولیاں دے دیں یہ حادثہ ہے کہ کچھ وقت کے خداؤں نے مسافروں کو سرابوں کے کشتیاں دے دیں رئیس شہر مخیر ہے اس قدر اس نے چراغ مانگنے والوں کو بجلیاں دے دیں یقین کرتے ہیں کچھ لوگ یوں نجومی پر خدا کے ہاتھ میں جیسے ہتھیلیاں دے دیں

nae safinon ko saahil ki duriyaan de diin

غزل · Ghazal

دل اگر صاف نہیں ہے تو دعا کیسی ہے مخلصو یہ تو بتاؤ یہ وفا کیسی ہے آج بھی آپ سے ہے ترک تعلق لیکن میری سانسوں میں یہ خوشبوئے حنا کیسی ہے بات کہنی ہے تو چھا جاؤ سبھی ذہنوں پر یہ نہ دیکھو کہ زمانے کی ہوا کیسی ہے زندہ رہنے کو تو پتھر کی طرح بھی جی لیں دیکھنا یہ ہے کہ جینے کی ادا کیسی ہے فاصلے آپ نے دانستہ بڑھائے ہیں تو پھر سسکیوں کی مرے کانوں میں صدا کیسی ہے جس کی سانسوں سے دلاسوں کی مہک آتی تھی اس کے چہرے پہ شکایت کی گھٹا کیسی ہے جن کے سینوں میں منورؔ تھے اصولوں کے چراغ ان کے جسموں پہ لہو رنگ قبا کیسی ہے

dil agar saaf nahin hai to du'aa kaisi hai

Similar Poets