Munazza Anwar goindi
apni vahshat ke nae zakhm chhupaaun kaise
اپنی وحشت کے نئے زخم چھپاؤں کیسے میں تری یاد کی دیوار گراؤں کیسے شہر دل میں ہے وہی آج بھی چپ کا عالم در و دیوار صداؤں سے سجاؤں کیسے گنبد فکر میں آوازیں ہی آوازیں ہیں میں ہر آواز کی تصویر بناؤں کیسے