Muneebur Rahman
پیڑوں سے دھوپ پچھلے پہر کی پھسل گئی سورج کو رخصتی کا افق سے پیام ہے پھیلا ہوا ہے کمرے میں احساس بے حسی خاموشیوں سے بے سخنی ہم کلام ہے آہٹ ہو قفل کھلنے کی دروازہ باز ہو آنکھوں کو اب یقیں ہے یہ امید خام ہے یہ عمر سست گام گزرتی ہے اس طرح ہر آن دل کو وقت شماری سے کام ہے رہتی ہے صرف اس سے تصور میں گفتگو آرام گاہ روح میں جس کا مقام ہے وہ ہم سفر جو چھوڑ کے آگے چلے گئے اے موجۂ ہوا انہیں میرا سلام ہے ہر اک کو ناگزیر ہوئی دعوت فنا ٹھہراؤ ہے سحر کو نہ شب کو دوام ہے ہیں ان کہے بہت سے سخن ہائے گفتنی افسانۂ حیات سدا ناتمام ہے دن جا رہا ہے جیسے جدا ہو رہے ہیں دوست کیسی بجھی بجھی سی یہ گرمی کی شام ہے
peDon se dhuup pichhle-pahar ki phisal gai