Muneer Wahidi
Muneer Wahidi
Muneer Wahidi
Ghazalغزل
rakh di uDaa ke khaak-e-bayaabaan kabhi kabhi
رکھ دی اڑا کے خاک بیاباں کبھی کبھی راس آ گیا ہے گوشۂ زنداں کبھی کبھی لائے ہیں ہم بتوں پہ بھی ایماں کبھی کبھی قلب و نظر ہوئے ہیں مسلماں کبھی کبھی چھائی ہے خاک شہر نگاراں کبھی کبھی دیکھا انہیں قریب رگ جاں کبھی کبھی نالوں کا تھا کرشمہ کہ آہ رسا کا فیض وا ہو گیا ہے خود در زنداں کبھی کبھی عقل فریب کار سے کرتا ہے مشورے ڈھاتا ہے کیا ستم دل نالاں کبھی کبھی ضبط الم ہے عشق میں شرط وفا مگر آئے ہیں اشک بھی سر مژگاں کبھی کبھی اک شور حشر ہو گیا مے خانوں میں بپا ساغر سے ہے اٹھا مرے طوفاں کبھی کبھی طوف حریم ناز بتاں میں کٹی ہے عمر کعبہ کے بھی بنے ہیں نگہباں کبھی کبھی دیکھا ہے یہ بھی میں نے بفیض جنوں منیرؔ آتش کدہ بنا ہے گلستاں کبھی کبھی
tu muqim subh-e-azal se hai miri shaah-rag ke qarin sahi
تو مقیم صبح ازل سے ہے مری شاہ رگ کے قریں سہی مگر آ سکا نہ مجھے نظر مرے دل میں لاکھ مکیں سہی یہ شکست شیوۂ ناز ہے جو مزاج حسن بدل سکے کبھی منہ سے ہاں نہ نکل سکی جو کہا نہیں تو نہیں سہی میں وہ آب و گل کا ہوں شعبدہ کہ ملک فریب میں آ گئے مری دسترس میں ہے عرش بھی میں ہزار خاک نشیں سہی یہ سرور و ذوق کی منزلیں یہ مقام شوق کی رفعتیں مری آہ صبح کی دین ہیں مجھے اس کا بھی نہ یقیں سہی ترا آستاں تو نہ مل سکا ترے نقش پا ہی اگر ملیں مجھے کام سجدۂ شوق سے مرا سجدہ ننگ جبیں سہی وہ نیاز مند منیرؔ ہے جسے ماسوا سے غرض نہیں جو نہ دیکھے آنکھ اٹھا کے بھی کوئی رشک ماہ مبیں سہی





