SHAWORDS
Munir Arman Nasimi

Munir Arman Nasimi

Munir Arman Nasimi

Munir Arman Nasimi

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

پھول خوشبو چاند جگنو اور ستارے آ گئے آپ کیا آئے خوشی کے استعارے آ گئے یاس کے گہرے سمندر سے نکلنا تھا محال آپ نے چاہا امیدوں کے کنارے آ گئے اپنی ساری نیکیاں ان کے حوالے ہو گئیں ان کے سب الزام لیکن سر ہمارے آ گئے بند اپنا در کیا جب اک امیر شہر نے میری خاطر میرے مولا کے سہارے آ گئے ٹیلی ویژن دیکھ کر ہونے لگے بچے جوان ساتویں میں ان کو بھی بالغ اشارے آ گئے بھر گئی ہیں جھولیاں دل کی مرادوں سے منیرؔ ان کے در پہ جب کبھی دامن پسارے آ گئے

phuul khushbu chaand jugnu aur sitaare aa gae

غزل · Ghazal

میرا حوصلہ دیکھ کیا چاہتا ہوں میں قطرہ سے دریا ہوا چاہتا ہوں غریبوں کے دکھ کی دوا چاہتا ہوں اور ان کے دلوں کی دعا چاہتا ہوں میں اب زیست میں کچھ نیا چاہتا ہوں کہ کمرے میں تازہ ہوا چاہتا ہوں میں اشکوں سے اپنے گناہوں کو دھو کر ترے در پہ حاضر ہوا چاہتا ہوں میرے حال پر رحم کر اے مسیحا ہوں بیمار‌ الفت شفا چاہتا ہوں تعصب سے ہو پاک ہر شخص ارمانؔ میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

meraa hausla dekh kyaa chaahtaa huun

غزل · Ghazal

پلایا اس نے جب سے شربت دیدار چٹکی میں نمایاں ہیں تبھی سے عشق کے آثار چٹکی میں خزاں دیدہ تھا اس سے پہلے میرا گلشن ہستی مرا باغ تمنا ہو گیا گلزار چٹکی میں کیا عرض تمنا میں نے جب وہ ہنس کے یہ بولے نہیں کرتے کسی سے عشق کا اظہار چٹکی میں تمہاری اک نگاہ ناز کے صدقے میں اے جاناں ہوئے ہیں خم نہ جانے کتنے ہی سردار چٹکی میں گیا وہ دور جب فرہاد چٹانوں سے لڑتا تھا مگر اب چاہتے ہیں سب یہ پا لیں پیار چٹکی میں نماز و روزہ کی تلقیں گزرتی ہے گراں اس پر مگر شاپنگ کو ہو جاتی ہے وہ تیار چٹکی میں ہمارے رہنماؤں کے عجب اطوار ہیں ارماں کبھی انکار چٹکی میں کبھی اقرار چٹکی میں

pilaayaa us ne jab se sharbat-e-didaar chuTki mein

غزل · Ghazal

تمام شہر ہی دشمن ہے کیا کیا جائے وفا کے نام سے بد ظن ہے کیا کیا جائے مجھی سے پوچھ رہا ہے یہ میرا ہمسایہ تمہارا گھر مرا آنگن ہے کیا کیا جائے گرا دیا تھا مرے گھر کو پچھلی بارش نے کہ پھر سے گھات میں ساون ہے کیا کیا جائے پڑھائی جاتی ہے مکتب میں اب غلط تاریخ فسادی ہاتھ میں بچپن ہے کیا کیا جائے جو بچے ہو گئے قابل اڑے وہ پنچھی سے کہ سونا سونا سا آنگن ہے کیا کیا جائے کہ سچ کچل دیا بیوہ کی حسرتوں کی طرح کہ جھوٹ ہاتھ میں کنگن ہے کیا کیا جائے حویلی دل کی ہے ارمانؔ سونی سونی سی اداس روح کا آنگن ہے کیا کیا جائے

tamaam shahr hi dushman hai kyaa kiyaa jaae

غزل · Ghazal

بھول جاؤں میں ادا کیسے اس ہرجائی کی جس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی یاد جب اس کی چلی آئی مری راہوں میں لاج رکھ لی ہے اسی نے میری تنہائی کی ایسے اجڑا ہے ترے بعد مرے دل کا جہاں اچھی لگتی نہیں آواز بھی شہنائی کی دوڑ جاتی ہے لہر سی میرے دل کے اندر یاد جب آتی ہے اس شوخ کی انگڑائی کی خون دل اپنا پلایا جو غزل کو میں نے تب کہیں جا کے زمانے نے پذیرائی کی

bhuul jaaun main adaa kaise us harjaai ki

غزل · Ghazal

ہر دعا گر قبول ہو جائے زندگی ہی فضول ہو جائے یہ دعا ہے کہ اپنی ہستی بھی ان کے قدموں کی دھول ہو جائے رشک آتا ہے اس کی قسمت پہ جس کی توبہ قبول ہو جائے بھول جاؤں اسے میں پل بھر کو کاش مجھ سے یہ بھول ہو جائے کس طرح تم چلو گے اے ارمانؔ گر یہ دنیا ببول ہو جائے

har duaa gar qubul ho jaae

Similar Poets