
Muniruddin Sahar Saeedi
Muniruddin Sahar Saeedi
Muniruddin Sahar Saeedi
Ghazalغزل
کمال عشق دکھانے پہ اب کمر باندھو نئی زمیں ہے مضامین پر اثر باندھو حصار جسم سے باہر بھی وسعتیں ہیں بہت چمن کی سیر کرو تتلیوں کے پر باندھو مزہ کچھ اور ہی آئے گا دل لگانے میں وفا کی شاخ سے امید کے ثمر باندھو غزل کو مان لیا سب نے آبروئے سخن شعور و فکر کے موضوع معتبر باندھو غزال فکر کے آوارہ گھومتے ہیں سحرؔ تم ان کو لا کے کسی روز اپنے گھر باندھو
kamaal-e-ishq dikhaane pe ab kamar baandho
اپنے اقرار پہ قائم نہ وہ انکار پہ ہے کس پری زاد کا سایہ مرے دل دار پہ ہے فکر تہذیب نہ اصناف ادب سے رغبت آج کل سب کی نظر درہم و دینار پہ ہے ایسا لگتا ہے چلی آئے گی پہلو میں ابھی قد آدم تری تصویر جو دیوار پہ ہے مجھ کو اس ظلمت شب زار سے نسبت ہی کیا میری بیدار نظر صبح کے آثار پہ ہے میں تو بکنے پہ ہوں راضی بسر و چشم سحرؔ فیصلہ آ کے ٹکا میرے خریدار پہ ہے
apne iqraar pe qaaem na vo inkaar pe hai
یاد ماضی کے اجالوں میں بہت دیر تلک ڈوبا رہتا ہوں خیالوں میں بہت دیر تلک نام سے بھی مرے واقف نہیں ہوتا کوئی وہ جو رہتے نہ حوالوں میں بہت دیر تلک جب بھی ان گالوں کے گرداب پہ پڑتی ہے نظر غرق رہتا ہوں خیالوں میں بہت دیر تلک مضطرب رہتی ہیں آہٹ پہ چمک جاتی ہیں کون رہ پائے غزالوں میں بہت دیر تلک نغمہ و ساز کی تاثیر طلسماتی ہے گونج رہتی ہے شوالوں میں بہت دیر تلک فضل رب جان کے جب کھاتا ہوں روکھی سوکھی لطف آتا ہے نوالوں میں بہت دیر تلک خوبیٔ شعر کے چرچے بھی رہے خوب سحرؔ آپ کے چاہنے والوں میں بہت دیر تلک
yaad-e-maazi ke ujaalon mein bahut der talak
دل سے جس کو چاہتا ہوں کیوں اسے رسوا کروں یہ مرا شیوہ نہیں میں عشق کا چرچا کروں احتیاطاً اس لیے تنہا رہا کرتا ہوں میں یاد وہ آ جائے تو جی کھول کر رویا کروں خط مرا پڑھ کر ستم گر کیوں نہ ہوگا اشک بار آہ کا لے کر قلم جب درد کو انشا کروں تو چلے ہم راہ تو رستہ دکھائی دے مجھے کیوں عبث پرچھائیوں کے غول کا پیچھا کروں دل میں اک معصوم سی یہ آرزو بھی ہے سحرؔ وہ مخاطب مجھ سے ہو اور میں اسے دیکھا کروں
dil se jis ko chaahtaa huun kyuun use rusvaa karun
خلوص پیار وفا دوستی صلہ کیا ہے ہٹاؤ ایسی حکایات میں دھرا کیا ہے شریف لوگوں کی پگڑی اچھالتے پھرنا ہمارے عہد کے بچوں کا مشغلہ کیا ہے مجھے یہ بوجھ اٹھانے کی ہے ضرورت کیا ہر آدمی مرے بارے میں سوچتا کیا ہے سبھی نے بھیڑ میں اک دوسرے پہ وار کیا کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ واقعہ کیا ہے نہ دل میں یاد نہ آنکھوں میں کوئی خواب سحر بکھرتے جسم کے ملبے میں ڈھونڈھتا کیا ہے
khulus pyaar vafaa dosti sila kyaa hai





